گلگت(تحریر نیوزنیٹ ورک) گلگت بلتستان کے تمام اضلاع سے روالپنڈی کی طرف جانے والے تمام بسوں اور کوچوں کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے چلاس تھلچی شام سے لیکر صبح تک روکا جارہا ہے۔ اس مقام پر مسافرین کیلئے کسی قسم کی سہولیات بھی دستیاب نہیں۔ حکومت گلگت بلتستان کی عدم توجہی کے سبب سفر کرنے والے بیمار اور ضیعف المعمر افراد کے ساتھ عوام کا استحصال کیا جارہا ہے۔ حکومت کو اگر سیکورٹی کے حوالے سے کسی بھی قسم کے خدشات ہیںتو مختلف اضلاع سے روانگی کے اوقات میں تبدیل کرکے سخت سردی کے اس عالم میں عوام کو شدید پریشانی سے بچایا جاسکتا ہے لیکن اس حوالے سے ٹرانسپورٹر سے حکومت میں احساس ذمہ داری کہیں سے نظر نہیں آرہا۔ رات گئے تھلچی کے مقام سے کئی مسافرین نے ہمارے نمائندے کو فون کرکے بتایا کہ سکورٹی خدشات کا بہانہ بنا کرسہولیات سے خالی مقام پر گاڑیوں کو روک لینے کی وجہ سے کئی ضفیف العمر افراد کی حالت غیر ہوگئی جبکہ کئی بچے سخت سردی کی وجہ سے بیماری میں مبتلا ہوگئے لیکن نہ ہی سیکورٹی افراد کو رحم آیا اور نہ ہی ٹرانسپورٹر سے اس حوالے سے سردی کی وجہ سے بیمار ہونے والے افراد کی داد رسی ہے۔ اُنہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گلگت بلتستان کے تمام اضلاع سے راولپنڈی کیلئے سروس کی ٹائمنگ میں ردبدل کرکے عوام کو مزید پریشان ہونے سے بچائیں۔
سخت سردی کے موسم میں شاہراہ قراقرم پر کانوائی کے نام پر مسافروں کی استحصالی عروج پر۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا