اسلام آباد(مانٹرینگ ڈیسک) سی پیک میں شامل گلگت بلتستان کے دو بڑے منصوبوں پر وفاقی وزارت منصوبہ بندی نے اعتراض لگا کر انہیں ختم کرنے کی سفارش کی ہے، وفاقی وزارت پلاننگ کے حکام نے سی پیک میں شامل گلگت بلتستان کے 2 اہم منصوبوں 100 میگا واٹ پاور پراجیکٹ کے آئی یو اور 80 میگاواٹ پھنڈر پاور پراجیکٹ پر اعتراض لگاتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ گلگت بلتستان میں کوئی انرجی پالیسی نہیں، بجلی کہاں جائیگی، ترسیل کیسے ہوگی، اس کا کوئی نظام نہیں، کیونکہ گلگت بلتستان میں ٹرانسمیشن سسٹم ہی نہیں، جس کی وجہ سے دونوں منصوبوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ذرائع کے مطابق 20 دسمبر کو بیجنگ میں سی پیک کے جے سی سی (جوائنٹ کوآرڈنیشن کمیٹی) کا اہم اجلاس ہو رہا ہے، جس میں وزیراعلیٰ گلگت بلتستان بھی شریک ہوں گے۔ اس اہم اجلاس میں پیش ہونے والے منصوبوں کو فائنل کرنے کیلئے سی پیک کی انرجی کمیٹی کے اجلاس میں گلگت بلتستان کا کوئی منصوبہ شامل نہیں کیا گیا، انرجی کمیٹی سی پیک کے وہ تمام منصوبے فائنل کرتی ہے، جسے جے سی سی اجلاس میں منظوری کیلئے پیش کیا جانا ہو۔
ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت نے کچھ سوشل سیکٹر کے منصوبے سی پیک میں شامل کرنے کیلئے وزارت پلاننگ کو پیش کئے ہیں، تاہم ان منصوبوں پر ابھی تک غور نہیں کیا گیا، کے آئی یو اور پھنڈر پراجیکٹ ختم کرنے کی صورت میں گلگت بلتستان سی پیک سے مکمل طور پر خالی ہوجائیگا۔ تاہم ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ جے سی سی اجلاس میں مقپون داس سپیشل اکنامک زون کی فزیبلٹی پیش کی جاسکتی ہے اور اس کی منظوری بھی دی جاسکتی ہے۔ واضح رہے کہ گلگت بلتستان کے 2 اہم منصوبوں کو سی پیک میں شامل کرنے کی منظوری جے سی سی نے دی تھی۔ 20 دسمبر کو ہونے والا یہ جے سی سی کا آٹھواں اجلاس ہوگا، اس اجلاس میں سی پیک سے متعلق اہم فیصلے کئے جائیںگے۔ جے سی سی اجلاس میں گلگت بلتستان کو صرف ایک مرتبہ نمائندگی دی گئی تھی، نون لیگ کے دور میں ہونے والے اجلاس میں گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ کو ایک مرتبہ نظر انداز کیا گیا تھا، جس کیخلاف گلگت بلتستان کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا تھا
پی ٹی آئی کی حکومت نے گلگت بلتستان میں انرجی جنریشن کے دو بڑے پراجیکٹ پر اعتراض کردی۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا