اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کو دبئی کی جائیداد ظاہر نہ کرنے پر 29.4 ملین روپے جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔سپریم کورٹ میں بیرون ملک اکاؤنٹس اور جائیدادوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی تو علیمہ خان اور ان کے وکیل سلمان اکرم راجہ عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ نے دبئی میں کتنے کی پراپرٹی خریدی اور اس کیلئے بینک سے کتنا قرض لیا؟۔ علیمہ خان نے جواب دیا کہ 2008 میں 3 لاکھ 75 ہزار ڈالر میں جائیداد خریدی، جس کے لیے 50 فیصد بنک قرض لیا اور 50 فیصد رقم خود دی، یہ جائیداد گزشتہ سال فروخت کردی ہے۔ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ایف بی آر میں علیمہ خان کے ذمے 18 ملین (ایک کروڑ 80 لاکھ) کی رقم ہے۔تاہم ایف بی آر نے نشاندہی کی کہ ان کے ذمہ 29.4 ملین کی رقم ہے۔ اس پر سپریم کورٹ نے علیمہ خان کو ایک ہفتے میں 29.4 ملین (2 کروڑ 94 لاکھ) روپے جمع کرانے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ علیمہ خان چاہیں تو اس جرمانے کے خلاف اپیل اور ایف بی آر حکام کے خلاف قانونی چارہ جوئی بھی کرسکتی ہیں۔
علیمہ خان پر دبئی میں جائیداد کو انکم ٹیکس کے گوشواروں میں ظاہر نہ کرنے کا الزام تھا۔ گزشتہ سماعت پر ایف بی آر کے کمشنر ان لینڈ ریونیو ڈاکٹر اشتیاق نے بتایا تھا کہ علیمہ خان نے بینک سے قرض لے کر دبئی میں فلیٹ خریدا تھا، اس کا کرایہ قسط کے طور پر بینک کو ادا کیا، پھر فلیٹ کو فروخت کر دیا، انہوں نے یہ جائیداد ظاہر نہیں کی تھی جس پر ایف بی آر نے انہیں نوٹس دیا تھا۔اس سے قبل ایف آئی اے نے پاکستانیوں کے غیرملکی اثاثوں سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ علیمہ خان بھی دبئی میں بے نامی جائیداد کی مالک ہیں۔
سپریم کورٹ نے وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان پر بھاری جرمانہ عائد کردیا۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا