جی بی بار کونسل نے متنازعہ بنیاد پر حقوق کا مطالبہ کرنے والوں کو مودی کا یار قرار دے دیا۔

0 0

اسلام آباد(تحریر نیوزنیٹ ورک) گلگت بلتستان بار کونسل نے اپنے آفیشل فیس بُک پیج پر ایک بیان جاری کیا ہے جس میں دعویٰ کیا ہے کہ گلگت بلتستان عبوری آئینی صوبہ یقینی ہے۔ اُنہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اٹارنی جنرل آف پاکستان نے جو مسودہ اصلاحات 2018 سپریم کورٹ آف پاکستان میں پیش کیا اس کی ابتدائیہ ہی عبوری آئینی صوبہ کے بذریعہ آئینی ترمیم ہونے تک آرڈرز 2018 میں اصلاحات کا ذکر کیا گیا ہے۔ اُنہوں نے گلگت بلتستان میں اقوام متحدہ کے قرادادوں کی روشنی میں حقوق کا مطالبہ کرنے والوں کو مودی کا یار قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ مودی کے ایجنڈے پر چلنے والے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی جھوٹی تشریحات کر کے اب قوم کو مزید گمراہ نہیں کرسکتے حقائق یہ ہے کہ حقیقی خود مختاری آئینی عبوری صوبہ ہی میں ہے۔
یاد رہے سپریم کورٹ میں آٹارنی جنرل نے چیف جسٹس کے سامنے کہا تھا کہ گلگت بلتستان کو بین الاقوامی قوانین اور مسلہ کشمیر پر مملکت پاکستان کے موقف کی روشنی میں گلگت بلتستان کو صوبہ نہیں دیا جاسکتا اس خطے کو دیگر صوبوں کے برابر حقوق دیا جائے گا۔
یاد رہے دفتر خارجہ اس حوالے سے کئی بار بیان کر چُکے ہیں کہ گلگت بلتستان قانونی طور پر ریاست جموں کشمیر کا حصہ ہے اور جب تک پوری ریاست میں اقوام متحدہ کی موجودگی میں رائے شماری نہیں کرائے جاتے گلگت بلتستان کی قانونی حیثیت تبدیل نہیں ہوگا ایسا کرنے کی صورت میں انڈیا کو اُن کے زیر انتظام خطہ لداخ اور جموں کشمیر پر مکمل طور پر قبضہ کرنے کا موقع ملے گا۔

 

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website