گلگت (نمائندہ خصوصی)سپیکر گلگت بلتستان اسمبلی حاجی فدا محمد ناشاد نے فورس کمانڈر ناردرن ایریاز کی جانب سے سکردو کرگل روڑ کو منقسم خاندانوں کی سہولت کے لیے کھولنے کے حوالے سے خوشخبری دینے کا جو عندیہ دیا ہے اسے نیک شگون قرار دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اب یہ دیرینہ مسئلہ جو گذستہ ستر سالوں سے حل طلب ہے۔ حل ہوجائے گا۔ سپیکر نے بتایا کہ جس وقت سابق وزیر اعظم پاکستان ظفر اللہ خان جمالی نے آزاد کشمیر سے مقبوضہ کشمیر کے لیے راستہ منقسم خاندانوں کے لیے کھو لنے کا فیصلہ کیا اس وقت انہوں نے بحیثیت ممبر ناردرن ایریاز کونسل وزیر اعظم ظفراللہ خان جمالی کو ایک ذاتی مراسلے کے ذریعے اس روڈ کی اہمیت اور منقسم خاندانوں کے لیے افادیت سے آگاہ کرتے ہوئے درخواست کی تھی کہ کرگل لداخ کے راستے بھی کھولے جائیں۔ بعد ازاں یکے بعد دیگرے آنے والے تمام حکومتی سربراہان سے بھی اس بات پر زور دیتے رہے بلکہ سابق ایک ہمدرد فورس کمانڈر ناردرن ایریاز نے بھی اس راستے کو کھولنے کی سفارش کرلی تھی اور سپیکر جوکہ اس وقت ممبر تھا کو اطلاع دی گئی تھی لیکن بار آور ثابت نہیں ہوا۔ سپیکر نے یقین دلایا ہے کہ میجر جنرل ڈاکٹر احسان محمود جوکہ اس وقت فورس کمانڈر کی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہیں ۔ علاقے کی جغرافیائی ، تاریخی ، معاشرتی ، معاشی حالات اور گلگت بلتستان کی ثقافت سے مکمل آگاہ ہیں ۔ ان کی اس علاقے کے ساتھ ہمدردی بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ ان کی کوششوں سے یہ مسئلہ حل ہوکر منقسم خاندان کے افراد کو اپنے عزیز و اقارب سے جلد ملاقات نصیب ہوگی۔
سکردو کرگل روڈ کی بحالی کے حوالے سے فورس کمانڈر کا عزم نیک شگون ہے۔ اسپیکر حاجی فدا ناشاد۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا