گلگت ( تحریر نیوز نیٹ ورک) گلگت بلتستان اور کشمیر کے عوام اور عمائدین کی مشترکہ جدوجہد وقت کا اولین تقاضہ ہے میری گرفتاری اجتماعی سوچ کو دبانے کی کوشش تھی جسے دونوں خطوں کے عوام نے مسترد کردیا جس پر میں گلگت بلتستان اور کشمیر کے عوام اور عمائدین کو خراج تحسین کے شکریہ ادا کرتا ہوں.بوگھس مقدمات بنا کر قومی کاز میں روکاوٹ ڈالنے والوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ یہ 2018 ہے نہ کہ 1947 کہ اب گلگت بلتستان کے عوام کو وفادار بنانے کیلئے محض دعوئے ناکافی ہونگے.ان خیالات کا اظہار مولانا سلطان رئیس چئیرمین عوامی ایکشن کمیٹی نے رہائی کے بعد اپنے بیان میں کیا انہوں نے مزید کہا کہ جہاں گلگت بلتستان میں انسداد دہشت گردی قانون بے جا اور ناجائز استعمال کی وجہ سے بے شمار نوجوانوں کا مستقبل تاریک ہوچکا ہے دیامر گرینڈ جرگہ کی معاونت سے گزشتہ دیامر میں سکول حادثات میں خانہ پوری کے طور پر کمسن بچوں کی گرفتاری اور دو دو ماہ کے جسمانی ریمانڈ کے بعد دہشتگردی کے دفعات لگا کر جیل بھجوانا افسوسناک عمل ہے لہذا دیامر جرگہ فوری طور پر انکے رہائی کے لیے اقدامات کرکے معصوموں کی آہ سے بچےانہوں نےکہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی ہر مظلوم طبقے کی آواز ہے پہلے کی طرح آئیندہ بھی مشترکہ جدوجہد کو جاری رکھیں گے
گلگت بلتستان اور کشمیر کے عوام میں مشترکہ جدوجہد وقت کا اولین تقاضہ ہے۔ مولانا سلطان رئیس
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا