چلاس۔ (حسین احمد سے)پانی زندگی ہے اور پانی کے بغیر زندہ رہنا ممکن نہیں۔ ہرپن داس کے مکین تاحال پانی جیسی بنیادی اور انتہائی اہم سہولت سے محروم ہیں۔ پانی نہ ہونے کی وجہ سے مکینوں کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ہرپن داس میں چونکہ بڑے پیمانے پر رہائشی گھر تعمیر کئے گئے ہیں اور تعمیرات کا سلسلہ اب بھی جاری ہے اس لئے نئے تعمیرات کے لئے وافر مقدار میں پانی کی ضرورت پڑتی ہے لیکن ہرپن داس میں تعمیرات کے لئے دور پینے کے لئے بھی پانی میسر نہیں۔ پانی کی ضرورت پینے کے لئے ہو یا تعمیرات کے لئے یا پھر دیگر ضروریات کے لئےتو لوگوں کو بٹوگاہ نالہ کا رخ کرنا پڑتا ہے اور کرایہ پر ٹینکروں پر پانی لانا ہوتا ہے جس کی وجہ سے عوام کو بڑا مالی نقصان کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کا قیمتی وقت بھی ضائع ہوجاتا ہے۔ہرپن داس کے لئے محکمہ تعمیرات نے پائپ لائن کا ٹینڈر کروایا تھا لیکن ٹینڈر ہونے کے باوجود کام تاحال تعطل کا شکار ہے۔ زرائع کے مطابق ہرپن داس کو پانی دلوانے کے لئے سیاسی لوگ رکاوٹ بنے ہوئے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہرپن داس کو پانی فراہم کرنے سے نالوں میں رہنے والے لوگ چلاس کا رخ کرسکتے ہیں اگر ایسا ہوا تو مخالفین مضبوط ہونگے۔ یاد رہے ہرپن داس میں تمام سیاسی رہنماؤں کے کارکنان بستے ہیں۔ ہرپن داس میں بسنے والے تمام سیاسی رہنماؤں کے کارکنان پانی کی فراہمی پر یکساں موقف رکھتے ہیں اور سب چاہتے ہیں کہ سیاسی اختلافات کو بھول کر ہرپن داس کو پانی فراہم کرنا عوام کے مفاد میں ہے۔ ہرپن داس کے مکینوں نے متفقہ طور پر بارہا حکومت سے مطالبہ بھی کیا ہے کہ حکومت ہنگامی بنیادوں پر ہرپن داس کو پانی فراہم کرے لیکن تاحال کسی کی شنوائی نہیں ہوئی۔ اس مقصد کے حصول کے لئے مقامی سطح پر یوتھ کی جانب سے چھوٹی چھوٹی تحریکیں بھی چلائی گئیں تھیں لیکن بے نتیجہ ثابت ہوئیں۔ عوامی حلقوں نے اعلیٰ حکام بالخصوص وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمٰن سے اپیل کی ہے کہ وہ اس انتہائی اہم اور اجتماعی مسئلے کے حل کے لئے فوری،عملی اور تعمیراتی اقدامات اٹھائیں تاکہ عوام کا یہ دیرینہ مطالبہ پوری ہو۔
ضلع دیامر کے علاقہ ہرپن داس کے مکین پانی جیسی بنیادی اور انتہائی اہم سہولت سے محروم۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا