کراچی(رپورٹ: عبدالجبار ناصر)وفاقی حکومت کی اوراہم مقتدر شخصیت گلگت بلتستان میں سپریم اپیلٹ کورٹ کے چیف جسٹس کے لئے سپریم کورٹ کے ایک اہم سابق جج کو تعینات کرنے کے لئے گلگت بلتستان کے انتظامی حکم نامہ 2018ء میں ترمیم کے لئے کوشاں ہے۔ ذرائع کے مطابق گلگت بلتستان سپریم اپیلٹ کورٹ کے چیف جسٹس کی پوسٹ تقریباً آڑھائی ماہ سے خالی ہے اور اس پوسٹ پرسپریم کورٹ کے ایک ’’اہم ریٹائرڈ جج‘‘ کو تعینات کرنے کے لئے اہم مقتدر شخصیت اوروفاقی حکومت بعض اہم ذمہ دار کوشش کر رہے مگر ان کے لئے سب سے بڑی رکاوٹ گلگت بلتستان آرڈر 2018ء ہے ، جس میں چیف جسٹس کی عمر کی حد 65سال مقرر کی گئی ہے اورسپریم کورٹ کے متعلقہ ریٹائرڈ جسٹس صاحب کی عمر 65سال سے زائد ہے۔ اس سے قبل سیلف گورننس آرڈر 2009ءمیں گلگت بلتستان سپریم اپیلٹ کورٹ کے چیف جسٹس کے لئے عمر کی کوئی حد مقرر نہیں تھی مگرسیلف گورننس آرڈر 2009ء منسوخ ہوچکاہے اور اس وقت گلگت بلتستان آرڈر 2018ء نافذ العمل ہے۔جس کے مطابق سپریم کورٹ کے متعلقہ ریٹائرڈ جسٹس صاحب گلگت بلتستان سپریم اپیلٹ کورٹ کے چیف جسٹس کی پوسٹ کے لئے میرٹ پر پورا نہیں اتر رہے ہیں ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس قانونی مشکل کو دور کرنے کے لئے وفاقی حکومت کے بعض حکام اہمیت شخصیت کی خواہش پرگلگت بلتستان آرڈر 2018ء میں ترمیم کے لئے کوشاں ہیں۔ ذرائع کے مطابق گلگت بلتستان کی حکومت نے وفاقی حکومت سے اپیل کی ہے کہ اس میں ترمیم نہ کی جائے اوروہی میرٹ رکھا جائے جو پاکستان میں ہے اور مزید یہ کہ گلگت بلتستان کو تجربہ گاہ نہ بنایا جائے۔ کسی شخصیت کوفائدہ پہنچانے کے لئے گلگت بلتستان آرڈر 2018ء میں ترمیم نہ کی جائے بلکہ میرٹ کے مطابق حکومت پاکستان گلگت بلتستان سپریم ایپلٹ کورٹ کے چیف جسٹس کا تقرر کیاجائے۔
چیف جسٹس سپریم اپیلٹ کورٹ جی بی سفارش کی بنیاد پر تعین کرنے اہم وفاقی حکومتی شخص متحرک۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا