گلگت (ڈسٹرک رپورٹر)قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن گلگت ڈویژن کے شعبہ طالبات کے زہر اہتمام یوم حسینؑ کا اہتمام تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سید راحت حسین الحسینی نے کا کہنا تھا کہ تاریخ اسلام میں خواتین کا بے مثال کردار ہے۔اسلام کی ترویج اور بقاء میںخواتین بلخصوص خاندان نبوت کا عظیم حصہ شامل ہے جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ہے۔حضرت امام حسین ؑ کے عالمگیر پیغام کو عالم انسانیت تک منتقل کرنے میں حضرت زینب کاکردار بے مثال ہے ۔آ ج ہمارے پاس اگر اسلام حقیقی شکل میں موجود ہے تو اس میں حضرت فاطمہ اور حضرت زینب کا کردار ہے ،ان عظیم ہستیوں نے اپنا سب کچھ اسلام پر قربان کیا انھوں نے اپنے بردے قربان کیا تاکہ تمھارے پردے سلامت رہے لیکن آج بدقسمتی سے خواتین حضرت زینب کی اس قربانی کو سمجھنے سے قاصر ہے ۔عورت کی عزت و غیرت پردے میں ہے ۔ہمارا کلچر ہجاب ہے ناکہ بے ہجابی ۔آپ پر حضرت زینب کا قرض ہے کہ آپ اپنی ہجاب کی حفاظت کریں اور اس کی ترویج کریں۔آج ہمارے معاشرے میں اسلامی تقافت کے خلاف بدترین سازش ہو رہی ہے ۔گلگت بلتستان کے اسلامی ثقافت کو نقصان پہنچانے کے لیے مغربی کلچر کو فروغ دیا جا رہا ہے ۔ایک منظم سازش کے تحت تعلیمی اداروں میں مغربی ثقافت کو پروان چڑایا جا رہا ہے ۔تعلیمی اداروں میں مذہبی پروگرامات پرپابندی اور فحاشی پروگرامات کی کھلی چھٹی اس سازش کا حصہ ہے ۔گلگت بلتستان کی تقافت حیاء ہے ۔گلگت بلتستان دنیا کا وہ حصہ ہے جہاں عورت کی عزت و مقام ہے یہ عزت و مقام اسلامی اقدار و تقافت کا ثمر ہے ۔خواتین اپنی حیاء و حرمت کی بھر پور دفاع کریں۔سکول ،کالجز اور یونیورسٹی میں موجود طالبہ و طالبات اسلام کے نمائیدیں ہیں آپ سب مل کر اسلامی اقدار اوراسلامی تقافت کی ترویج کریں اور دشمن کی سازشوں کو ناکام بنائے ۔خواتین کو سمجھنا چاہیے کہ اس وقت دشمن طاقتیں عورت کی عزت و حرمت ختم کرنا جاہتے ہیں یہ فحاشی پروگرامات کا انعقاد اور خواتین کی حقوق کے نام پر جس انداز سے عورت کو پیش کیا جا رہا ہے درحقیقت وہ سب حربے عورت سے اس کی ہمیت ،عزت اور حرمت کو پامال کرنے کا سازش ہے۔آج ہر عورت پر فرض ہے کہ وہ ہجاب اور اسلامی پردے کی فکر کو عام کریں ۔
گلگت بلتستان کی تقافت حیاء ہے، سازش کے تحت تعلیمی اداروں میں مغربی ثقافت کو پروان چڑھایا جا رہا ہے۔ آغا راحت
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا