سکردو(پ،ر) پیپلزپارٹی کے صوبائی صدر امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہاہے کہ جن 15 خاندانوں کو 25ارب روپے کا فائدہ پہنچایا گیا ہے ان کے سربراہ خودوزیر اعلیٰ حفیظ الرحمن ہیں باقی خاندانوں کے نام بھی 18نومبر کے جلسے میں سامنے لائے جائیں گے حفیظ الرحمن اربو ں کی کرپشن کرکے پھنس گئے ہیں جس دن ان کے ہاتھ میں ہتھکڑی آئے گی مشیر اطلاعات شمس میر وعدہ معاف گوہ بنیں گے تین وعدہ معاف گواہ سرکاری دفاترسے نکلیں گے پھر صورت حال بہت سنگین ہو جائے گی حفیظ الرحمن آج جن سرکاری افیسران کے سہارے کرپشن کر رہے ہیں کل وہی لوگ ان کی کرپشن گواہی دیں گے کے پی این سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ تمام ٹھیکے وزیر اعلیٰ کے حکم پر دیئے گئے ہیں ترقیاتی کام کا غذوں کی حد تک ہیں حفیظ الرحمن نے تمام ٹھیکے اپنے چہیتوں میں تقسیم کرائے ہیں اور گلگت بلتستان کو تباہی کے دہانے پر پہنچادیا ہے گلگت بلتستان میں اس وقت جو کرپشن ہورہی ہے اس کی تاریخ میں کبھی مثال نہیں ملتی تمام ثبوت اکھٹے کر لئے گئے ہیں مشیر اطلاعات نے ڈیڑھ سو مٹی کے بلاک کے 14لاکھ روپے معاوضہ لیا ہے ڈیٹا میرے پاس موجود ہے مقامی حکومت نے ٹرانسفارمر کی سکیم رکھ کر وزیر اعلیٰ کے چہیتوں کو ڈیڑھ کروڑ روپے کی رقم دی ہے میںنے ڈیڑھ کروڑ روپے کے چیک کی کاپی بھی حاصل کر لی ہے حالانکہ ااج تک لوکل گورنمنٹ سے 25لاکھ روپے سے زیادہ کا چیک بناہی نہیں ہے بتایا جائے کہ ڈیڑھ کروڑ روپے کا چیک کیسے بنایا گیا ہے ؟ بڑی رقم مقامی حکومت کے ذریعے وزیر اعلیٰ کے چہیتوں میں کیسے تقسیم کی گئی اتنا بڑا دائرہ اختیار کہاں سے آگیا ؟ وزیر اعلیٰ جتنی مرضی چاہیں کرپشن کرلیں ان کی تمام کرپشن کے ریکارد محفوظ کرلئے گئے ہیں وہ اب سزاء سے بچ نہیں پائیں گے بتایا جائے کہ ثبوت کہاں پیش کئے جائیں ؟ اس وقت سارے لاڈلے ہیں اس لئے کارروائی نہیں ہو رہی ہے مگر یہ بات حتمی ہے کہ کارروائی ہو گی اور وزیر اعلیٰ جلد جیل جائیں گے اور انہیں ہتھکڑیاں لگیں گی انہوں نے کہا کہ کرپشن کرنے کے بعد وزیر اعلیٰ معصوم بننے کی کوشش کر کے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ حکومتی کرپشن کا بے رحم احتساب کیا جائے ورنہ قوم ہر گز مطمئن نہیں ہو گی سرکاری خزانے کا منہ حفیظ الرحمن نے اپنے چہیتوں کیلئے کھول دیا ہے بلتستان میں بھی وزیر اعلیٰ کے چہیتے بدمعاشیاں کر رہے ہیں ۔
پاکستان پیپلزپارٹی کےاہم رہنماء نے گلگت بلتستان میں 25ارب روپے کی کرپشن کا انکشاف کردیا۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا