گلگت بلتستان کی تاریخ کا ناپسندیدہ ترین چیف سیکرٹیری سے خدمات واپس لینے کا فیصلہ۔

0 0

اسلام آباد(تحریر نیوز نیٹ ورک) گلگت بلتستان کی تاریخ کا ناپسندیدہ ترین چیف سیکرٹیری بابر حیات تارڑ سے کل تک میں واپس لینے کا امکان ہے۔ زرائع کے مطابق نئے چیف سکرٹیری کیلئے گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال حسین مقپون نے تین نام وفاق کو دئے ہیں جس میں سابق چیف سیکرٹیری گلگت بلتستان ڈاکٹر کاظم نیاز اور جوائٹ سیکرٹیری کشمیر افیئر اور ایڈیشل انچارج گلگت بلتستان کونسل شاہد خان سمیت ایک اور اہم بیورکریٹکیپٹن ریٹائرڈ خرم آغا  کانام شامل ہے لیکن سابق چیف سیکرٹیری ڈاکٹر کاظم نیاز کوفیورٹ قرار دیا جارہا ہے۔تحریک انصاف کے رہنما عالم نور حیدر نے ہمارے نمائندے سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے اور اُنکا کہنا تھا گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال حسین مقپون نے مسلسل عوامی مطالبات کو سامنے رکھتے ہوئے وفاق سے اس حوالے سے خصوصی طور پر مطالبہ کیا تھا ۔
موجودہ چیف سکرٹیری سے خدمات کی واپسی کیلئے گلگت بلتستان کے عوام گزشتہ ایک سال سے سخت بے چین تھے۔گلگت بلتستان کے عوام عمومی طور پر بہت ذیادہ مہمان نواز ہوتے ہیں اور یہاں کے عوام کی یہ خاص خوبی ہے کہ لوگ وفاق سے آنے والے کسی بھی افسر کو ہار پہناتے ہیں اور ثقافتی تحائف تخفے کی شکل میں پیش کرتے ہیں لیکن جون کے مہینے میں چیف سیکرٹری گلگت بلتستان بابر حیات تارڑ کا پہلا دورہ گانچھے بلتستان کے موقع پر سائل کی جانب سے اپنے علاقے میں گائنا کالوجسٹ کی تعیناتی کا مطالبہ کرنا جرم بن گیا تھا۔ سائل کے سوال پراُنہوں نےبد تمیزی کی انتہا کردی تھی اور گلگت بلتستان کے عوام کو ٹیکس نہ دینے کا طعنہ بھی دیدیا تھا۔ اُنہوں نے کہا تھا کہ گلگت بلتستان کوئی متنازعہ خطہ نہیں حکومت پاکستان اس خطے میں سالانہ سو ارب خرچہ کرتے ہیں لیکن گلگت بلتستان کی طرف سے ٹیکس کی صورت میں کچھ بھی نہیں ملا۔ اُس وقت اُنکے اس بیان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر آگ کی طرح پھیل گیا ہے اور پورے گلگت بلتستان کے عوام اُن کے خلاف سراپا احتجاج سڑکوں پر نکل آئے۔اُن کے اُس بیان پر دفتر خارجہ سے بھی شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ گلگت بلتستان بین الاقومی طور پر ایک متنازعہ خطہ ہے اور چیف سیکرٹیر ی کا گلگت بلتستان کے حوالے سے بیان پاکستان کی خارجہ پالیسی اور مسلہ کشمیر کے خلاف ہے۔
اگست کے مہینے میں متحدہ اپوزیشن گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی نے بھی بابر حیات تارڈ کی جانب سے گلگت بلتستان کے عوام کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے کرنے پر اپنا رد عمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر 100 ارب روپے بابر حیات اپنے گھر سے لے کر آیا ہے تو بوری میں ڈال کر اپنے ساتھ لے کر چلے جائیں۔ چیف سیکرٹری ہوتا کون ہے جو عوام سے ٹیکس کے بارے میں پوچھے۔ ٹیکس دینے یا نہ دینے کا فیصلہ ممبران اسمبلی کرینگے۔ اسی طرح جب وہ بلتستان میں سرفہ رنگا ایونٹ میں شرکت کی غرض سے پونچے تو بھی عوام نے اُن کے خلاف شدید غم اور غصہکے اظہار کیا تھا۔
اب پاکستان تحریک انصاف نے حکومت نے اُن سے خدمات واپس لینےکےفیصلے کی خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی لوگوں نے خوشی منانا شروع کردیا ہے اور تحریک انصاف خاص طور پر گورنر گلگت بلتستان کی جانب سے اس اہم اقدام کو خوب سراہا جارہا ہے۔
وفاقی حکومت کو چاہئے کہ گلگت بلتستان میں جو بھی نیا چیف سیکرٹیر ی جو بھی آئے اُنہیں گلگت بلتستان کی تاریخی حقیقت متنازعہ حیثیت اور خاص طور پر اکہتر سالہ محرمیوں اور نئی نسل میں اُبھرتے ہوئے سوالات کا ادراک ہونا چاہئے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website