اسلام آباد(ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے سابق ایم ڈی پاکستان ٹیلی ویژن عطا الحق قاسمی کی تقرری غیر قانونی قرار دے دی۔عدالت عظمی کے دو رکنی بینچ نے آج اپنا محفوظ فیصلہ سنا دیا۔ عدالت نے اپنے فیصلہ میں قرار دیا کہ عطا الحق قاسمی نے بطور ایم ڈی جو احکامات دیئے وہ غیرقانونی ہیں۔
عدالت نے کہا کہ عطا الحق قاسمی نے جتنی تنخواہ اور مالی فوائد حاصل کیے وہ غیر قانونی ہیں۔ عدالت نے قاسمی کو کسی بھی سرکاری عہدے کےلیے بھی تاحیات نااہل قرار دے دیا۔سپریم کورٹ:عطاالحق قاسمی 27کروڑ واپس کریں کیس ختم کردیتے ہیں۔عدالت نے کہا ہے کہ عطا الحق قاسمی نے اپنے دور میں 197.86 ملین روپے حاصل کیے۔ عدالت نے حکم دیا کہ یہ تمام اخراجات پرویزرشید، اسحاق ڈار اور فواد حسن فواد سے لیے جائیں۔
عطا الحق قاسمی کی تقرری کے وقت پرویزرشید وفاقی وزیر براے اطلات تھے، سحاق ڈار وزیر خزانہ اور فواد حسن فواد وزیر آزم کے پرنسپل سیکرٹری تھے۔فیصلہ جسٹس عمر عطا بندیال نے پڑھ کر سنایا جسے عدالت نے 12 جولائی 2018 کو محفوظ کیا تھا۔ عدالت نے ایم ڈی پی ٹی وی تقرری ازخود نوٹس کیس نمٹا دیا۔
سپریم کورٹ نے سابق ایم ڈی پاکستان ٹیلی ویژن عطا الحق قاسمی پر بم گرا دیا۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا