راولپنڈی (ویب ڈیسک/سٹیٹ ویوز)بھارت کی پاکستان مخالف سرگرمیوں میں تیزی آگئی ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت جاری ہے ۔دوسری جانب بھارتی مصنف الوک بنسل نے گزشتہ دن گلگت بلتستان کے حوالے سے ایک کتاب شائع کی جس کی تقریب میں پاکستان کے خلاف شدید ہرزا سرائی کی گئی ۔ اس کتاب کا نام “Gilgit-Baltistan and Its Saga of Unending Human Rights Violations”کی تقریب رونمائی کی گئی۔
بھارتی مصنف الوک بنسل کی متنازعہ کتاب کے خلاف ایبٹ آباد میں مظاہرہ کیا گیا۔بھارتی مصنف کی جانب سے شائع کردہ کتاب میں گلگت بلتستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا منفی پروپیگنڈہ کیا گیاہے۔ اس کتاب کی اشاعت پر ایبٹ آباد میں مصنف کیخلاف سول سوسائٹی کی جانب سے مظاہرہ کیاگیا۔ مظاہرین نے پاکستان اور پاک فوج کے حق میں نعرےلگائے گئے۔۔
سول سوسائٹی نے بھارتی حکومت اور کتاب کے مصنف کے خلاف شدید احتجاج کیا۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ گلگت پاکستان کا حصہ ہے، بھارت منفی پروپیگنڈہ بند کرے۔ سول سوسائٹی نےزور دیا کہ سی پیک کو سبوتاژ کرنے کی بھارتی سازش کسی صورت پاکستانی عوام کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
یاد رہے یہ ایک ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب سپریم کورٹ آف پاکستان میں یکم نومبر کو گلگت بلتستان کے حوالے سے اہم فیصلہ متوقع ہے (اور یہ دن گلگت بلتستان کی یوم آذادی کا دن بھی ہے جب یہاں کے عوام نے مہاراجہ کشمیرکا بھارت سے الحاق کے خلاف بغاوت کی تھی) گلگت بلتستان کے عوام کی خواہش ہے کہ گلگت بلتستان کو تمام تر مسائل ایک طرف رکھ کر پاکستان میں شامل کریں ۔جبکہ دفتر خارجہ کی طرف سے حالیہ ہفتے میں جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ گلگت بلتستان ریاست جموں کشمیر کا حصہ تھا ہے اور رہے گا لہذا گلگت بلتستان میں بھی اقوام متحدہ کی نگرانی میں رائے شماری ہونا باقی ہے۔ دوسری طرف گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی نے سرتاج عزیز کمیٹی پر من عن عملدآمد کا مطالبہ کیا ہے جبکہ عوامی ایکشن کمیٹی نے ایکٹ آف پارلمینٹ کے تحت حقوق نہ ملنے پر سیٹ سبجیکٹ کی بحالی کا مطالبہ کیا ہوا ہے
Shri Ram Madhav @rammadhavbjp Ji is speaking at the Book Launch "Gilgit-Baltistan and Its Saga of Unending Human Rights Violations" Authored by Shri Alok Bansal (@Alok795) at Nehru Memorial Museum and Library. pic.twitter.com/y9YQzwt5qU
— BJP_RSS (@BJP_RSS) October 25, 2018
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا