اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے پاکستان سٹیزن پورٹل کا افتتاح کردیا۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سیزنل پورٹل پاکستان کے نوجوانوں نے تیار کیا، اس نظام سے سزا اور جزا میں آسانی ہوگی، جو نظام لایا جارہا ہے وہ ذہن بدلنے والا ہے، پہلی مرتبہ سرکاری افسران، وزارتیں اور سیاستدان سب قابل احتساب ہوگئے ہیں۔ جب لوگ کہتے ہیں نیا پاکستان کیا ہوگا، یہ ہے نیا پاکستان، پرانے پاکستان میں غلامانہ مائنڈ سیٹ تھا جس میں باہر سے لوگ حکمرانی کرنے آئے تھے، عوام اور حکمرانوں کا مختلف تعلق تھا، لوگ سرکاری دفاتر میں دھکے کھاتے تھے، اگر پیسہ طاقت ہے تو ناجائز کام بھی ہوجاتے تھے اور کمزوروں کے جائز کام نہیں ہوتے تھے لیکن اب جہاں بھی پاکستانی بیٹھا ہے، اس کے پاس آواز ہے، ہمیں ایک خاص مدت میں انہیں جواب دینا ہوگا۔ سرکاری اداروں میں سب سے زیادہ رشوت کی شکایات ہوتی ہیں، اب ہمیں کہیں بھی بیٹھ کر پتا چل جائے گاکہ کہاں کیا ہورہا ہے؟ کون سے وزارت کام کررہی ہے، یہ ای گورننس سسٹم ہے، ہم عوامی رائے سے پالیسی بنائیں گے، پہلی مرتبہ اب کمزور طبقے کے پاس آواز ہے، یہ پاکستان کے مستقبل کے لیے بہت اہم ہے۔ ہم نے قرضوں کا جو پہاڑ بنایا ہے اس میں سے نکلنا ہے تو سرمایہ کاری لانا ہوگی اور یہ جب ہوگا جب سرماریہ کار کے سامنے رکاوٹیں کم ہوتی ہیں، اس نظام کے تحت سرمایہ کار بھی رکاوٹیں حکومت کو بتا سکے گا۔ اس نظام کے ذریعے ہر ہفتے میں مجھے پتا چلا جائے گاکہ کس خطے اور وزارت سے کیا شکایت آرہی ہے، اس سے مائنڈ سیٹ بدلے گا، حکومت میں جو لوگ بیٹھے ہوں گے انہیں احساس ہوگا کہ ہم عوام کے ٹیکس پر بیٹھے ہیں، یہ ایک تبدیلی ہوگی جو نیا پاکستان بنے گا، یہ تب ہوگا جب لوگ اپنی حکومت کو اون کریں گے۔ جس طرح ہم پر قرضوں کا دبائو ہے اس میں ہمارا مستقبل یہ ہے کہ گورننس کا وہ لیول لائیں جو اب تک پاکستان میں نہیں آیا، اس وجہ سے سرمایہ کاری آئے، ہمیں علم نہیں کہ پاکستان کتنا بڑا تحفہ ہے، سرمایہ کار دیکھ رہے ہیں کہ ہم انہیں بہتر طرز حکمرانی دے سکتے ہیں، گورننس سسٹم ٹھیک نہ ہونے سے کچھ نہیں کرسکے، اس لیے پہلا چیلنج ہے طرز حکمرانی ٹھیک کرنا ہے، ہی ہمارا گورننس فیلیر ہے جس وجہ سے ہم پیچھے رہ گئے۔ بعد ازاں صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میرا اپوزیشن میں 22 سال سے کردار تھا، جو جو میں سمجھتا تھا اور اب یقین دلا رہا ہوں پاکستان میں اس سے بھی کہیں زیادہ پوٹینشل ہے، صرف کرپشن رکاوٹ ہے، دنیا کا کوئی بھی ملک ادارے مضبوط اور کرپشن پر قابو پاکر ترقی کرتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ سعودی عرب سے ملنے والے پیکیج پر کوئی شرائط نہیں، وہ سب سب لوگ پاکستان کی اسٹریٹیجک پوزیشن سمجھتے ہیں، ہمارے وسائل تو دور لیکن اسٹریٹیجک پوزیشن اس جیسی کسی کی نہیں، سب سے بڑی چیز ہمارے 35 سال سے کم 10 کروڑ پاکستانی ہیں، یہ دنیا کے لیے مارکیٹ ہے، کبھی بھی ملک اٹھ سکتا ہے، کرپشن واحد چیز ہے جو ملک کو تباہ کرسکتی ہے، کرپشن سے ادارے تباہ ہوتے ہیں، آنے والے دنوں میں دیکھیں گے، آپ کے وزیراعظم کو دنیا میں جاکر قرضے نہیں مانگنے پڑیں گے ، ابھی تو ہم نے کچھ نہیں کیا، یہ سب پرانے کیسز ہیں لیکن خبردار کررہا ہوں، جب ہم کچھ کریں گے تو شکایت آنے والی ہے کہ جمہوریت خطرے میں ہے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا