واشنگٹن (آن لائن نیوزڈیسک) واشنگٹن میں فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر عشرت حسین نے کہا ہے کہ معاشی مشکلات کے باعث آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ کیا، عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے بات چیت کے لیے وفد نومبر کے پہلے ہفتے میں آئے گا، پاکستان کے دفاعی اخراجات میں بہت زیادہ رقم خرچ نہیں ہوتی۔اُنہوں نے کہا آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں قومی مفاد کو سامنے رکھا جائے گا، ان کے علم میں نہیں پاکستان میں آئی ایم ایف کے علاوہ دوسری آپشن پر غورکیا جا رہا ہے، ان کے امریکا آنے تک کوئی ایسی آپشن زیرغور نہیں تھی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے دفاعی اخراجات میں بہت زیادہ رقم خرچ نہیں ہوتی، جی ڈی پی کا 3 فیصد سے بھی کم دفاعی اخراجات پر خرچ ہوتا ہے، 15 سو ارب قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہونا ہمارا بڑا مسئلہ ہے۔حکومت نے مالیاتی خسارہ کم کرنے کے لیے نئے بجٹ میں پہلے سے اقدامات کیے ہیں، جنہیں آئی ایم ایف کی جانب سے سراہا گیا ہے، موجودہ حکومت توانائی سیکٹر، مینوفیکچرنگ اور انڈسٹری میں اصلاحات چاہتی ہے، ملک میں نئے صنعتی زون بھی قائم کیے جائیں گے جبکہ ایف بی آر میں بھی اصلاحات کی جا رہی ہیں، امید ہے کہ رواں سال کرنٹ اکائونٹ خسارہ کم ہو گا۔
تحریک انصاف کی حکومت نے معاشی مشکلات سے نکلنے کیلئے آئی ایم ایف جانے کا حتمی فیصلہ کرلیا۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا