اسلام آباد(ویب ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیف جسٹس کی سربراہی میں سات رکنی بنچ نے ارکان پارلیمنٹ کی دہری شہریت کیس کی سماعت کی ۔ سینیٹر ہارون اختر کے وکیل علی ظفر نے اپنے دلائل میں کہا کہ ہارون اختر پیدائشی پاکستانی شہری ہیں تیس سال پہلے کینیڈا کی شہریت حاصل کی۔ کینڈین شہریت چھوڑنے کا بیان حلفی عدالت میں جمع کروا دیا ہے۔
دلائل سُننے کے بعد سپریم کورٹ نے دہری شہریت کیس میں ن لیگ کے دو سینیٹرز کی کامیابی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کو نااہل قرار دیا ہے۔ عدالت نے مختصر فیصلے میں کہا کہ ہارون اختر اور سعدیہ عباسی نے جب کاغذات نامزدگی جمع کرائے وہ دہری شہریت کے حامل تھے. عدالت نے سینیٹر نزہت صادق اور چودھری سرور کے دہری شہریت ترک کرنے کے سرٹیفیکیٹس کی 6 ہفتوں میں تصدیق کرانے کا بھی حکم دیا ہے.
چیف جسٹس نےریمارکس دئیے کہ ہمیں بیان حلفی نہیں شہریت ترک کرنے کاسرٹیفیکٹ دکھائیں۔ وکیل نےکہا کہ سرٹیفیکٹ ابھی نہیں ملا، چیف جسٹس نے کہا پھرتوبات واضح ہو گئی۔
سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی ہمشیرہ سعدیہ عباسی کے وکیل احمر بلال صوفی نے اپنے دلائل میں کہا کہ ان کی موکلہ دہری شہریت چھوڑ چکی ہیں، سرٹیفکیٹ بھی آ چکا ہے ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سعدیہ عباسی نے جس دن کاغذات نامزدگی داخل کئے اس دن وہ امریکی شہریت رکھتی تھیں، شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ کاغذات نامزدگی داخل کرنے کے بعد کا ہے، امیدوار کی اہلیت کے لیے آرٹیکل 62 اور 63 کو ملا کر پڑھا جاتا ہے ۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا