گلگت (تحریر نیوزنیٹ ورک) ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن گلگت بلتستان کے وکلاء نے گلگت پریس کلب پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے گلگت بلتستان میں غیر قانونی بھرتیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اُنکا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں بڑھتی ہوئی بیروزگاری اوربھرتیوں کے حوالے سے میرٹ کی مسلسل پامالی حکومت وقت کیلئے ایک بڑا چلنج ہے لیکن اس طرف توجہ نہیں دیا جارہا لہذا حکومت کو چاہئے کہ قانون کی بالادستی کو یقینی بناتے ہوئے گلگت بلتستان کے لوگوں کے حقوق کی تحفظ کو یقینی بنائیں۔
اُنکا کہنا تھا کہ سپریم اپلیٹ کورٹ کی قیام کو چار سال کا عرصہ گزر گیا ہے اور اب تک عوام کو انصاف فراہم کرنے والے ادارے میں چار غیر مقامی جج تعینات ہوچُکے ہیں جنہوں نے اب تک 37 کے قریب اہم عہدوں پر غیر مقامی افراد کو تعین کرکے گلگت بلتستان کے لوگوں سےحق ملازمت سے محروم کیا ہے۔ اور جن افراد کو ملازمتیں دی گئی ہے وہ سب جج صاحبان کے قریبی رشتہ ہیں یا تعلق دار ہیں۔
اُنہوں نے انکشاف کیا ہے کہ اس وقت گلگت بلتستان میں چٹراسی،مالی،خانساماں اور ٹیلی فون آپرٹیر تک کی نوکریوں کی نوکریوں پر غیر مقامی افراد کو بھرتی کیا جارہا ہے۔اُنہوں نے قائم مقام جج سپریم اپلیٹ کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ اُن تمام ملازمین کو جنہیں غیرقانونی طریقے سے سپریم اپلیٹ کورٹ میں بھرتی کیا ہے اُنہیں گلگت بلتستان اسمبلی کے قراداد کی روشنی میں فارغ کرکے لوکل کو تعین کریں۔
وکلاء کا کہنا تھا کہ ایسا نہ ہونے کی صورت میں گلگت بلتستان کے تمام بارایسوسی ایشن،سیاسی مذہبی جماعتوں اور عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ ملکر ہڑتال اور احتجاج کا اعلان کرے گی،وکلا کا مزید کہنا تھا کہ قانون کے مطابق گلگت بلتستان اور آذاد کشمیر کے کورٹس کی حیثیت برابر ہے اور کشمیر کے سپریم کورٹ میں چیف جسٹس سے لیکر چپراسی تک پر مقامی افراد کو تعین کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے گلگت بلتستان میں سپریم اپلیٹ کورٹ میں چیف جج ہمیشہ غیر مقامی تعین ہوتے ہیں اور اُنکی ایماء پر نچلے لیول کے تمام پوسٹوں پر بھی من مانی کے افراد تعین ہوتے ہیں۔ اُنہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ جن غیرمقامی افراد کو بھرتی کیا جاتا ہے اُنہیں لگژری مراعات بھی ملتے ہیں اور اُنکے مہمان رشتہ دار تک کو بھی خصوصی طور پر ریسٹ ہاوسز دستیاب ہیں لیکن مقامی افسران اس قسم کے مراعات اور سہولیات سے محروم ہیں جو کہ گلگت بلتستان کے محروم اور مجبور طبقے سے سراسر ناانصافی اور انصاف کا قتل عام ہے۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا