گلگت(تحریر نیوزنیٹ ورک) گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر اپنے مخصوص انداز اور روئے کہ وجہ سے ہمیشہ خبروں میں رہتے ہیں۔ آج ایک بار پھ اُنہوں نے اپنے عہدے پر غرور دکھاتے ہوئے عوامی ایکشن کمیٹی پر قابل افسوس طنز کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی کے چیرمین مولانا سلطان رئیس نے اپنے سوشل سائٹ فیس بُک پر سپریم کورٹ میں زیر سماعت گلگت بلتستان آرڈر 2018 کے خلاف پٹیشن اور گلگت بلتستان کے حوالے سے سپریم کورٹ کا وہاب الخیری کیس کے فیصلے پر عمل درآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے مطالبہ منظور نہ ہونے کی صورت میں عوامی مزاحمت کا عندیہ دیا۔ اس پوسٹ پر جعفراللہ خان نے طنزیہ طور پر کمنٹس میں(کیا پدی کیا پدی کا شوربہ ) لکھ دیا۔ اُنکا یہ کمنٹس اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ اُن کے نزدیک عوامی منڈیٹ کی کوئی حیثیت نہیں بلکہ وہ اپنے عہدوں اور مراعات میں مست ہیں۔ اس کمنٹس کے بعد اُن نہیں فیس بُک صارفین کی طرف سے آڑے ہاتھوں لیا جارہا ہے۔

More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا