شگر(تحریر نیوز نیٹ ورک )محکمہ تعلیم کا انوکھا نظام ،14500طلبہ کا حامل ضلع شگر کے لئے 290اساتذہ جبکہ 7ہزار طلبہ پر مشتمل ضلع کھرمنگ کے لئے 710اساتذہ تعینات ،اسی حساب سے شگر میں50طلبہ کے لئے ایک استاد جبکہ ضلع کھرمنگ میں 9طلبہ کے لئے ایک استاد موجود ہے محکمہ تعلیم کی جانب سے ضرورت کے مطابق اساتذہ کو ایڈ جیسٹ نہ کرنے کی وجہ سے کم اساتذہ والوں اضلاع میں تعلیمی نظام دن بدن خراب ہوتا جارہا ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ سا بق ڈائریکٹر محکمہ تعلیم مجید خا ن نے ایک پلان ترتیب دیا تھا جس کے مطابق جس ضلع میں طلبہ کم اور اساتذہ زیادہ ہو اس ضلع سے اساتذہ دوسرے ضلع میں این آئی ایس سمیت پوسٹینگ کرنے کا تھا تاہم محکمہ تعلیم کی جانب سے تعلیمی میدان میں تبدیلی لانے کی عوض میں انہیں ڈائریکٹر محکمہ تعلیم سے ہٹا کر محکمہ تعلیم میں بطور ڈائریکٹر پلاننگ لگا دی گئی جس کے باعث ان کے تمام پلان پر پانی پھیر گیا اور نظام تعلیم میں تبدیلی لانے اور معیاری تعلیم کو عام کرنے کے پلان ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے بتایا جاتا ہے کہ ضلع شگر میں اس وقت 14500طلبا و طالبات زیر تعلیم ہیں اور ان طلبہ کو پڑھانے کے لئے صرف 290اساتذہ موجود ہیں اس حساب سے 50طلبہ کے لئے ایک استاد موجود ہے اس کے مقابلے میں ضلع کھرمنگ میں 7ہزار طلبا و طالبات زیر تعلیم ہیں اور ان طلبا کو علم کی زیور سے روشناس کرانے کے لئے 710 اساتذہ موجود ہے اس طرح ضلع کھرمنگ میں 9طلبہ کے لئے ایک استاد دستیاب ہیں ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ ضلع کھرمنگ میں ضرورت سے زیادہ اساتذہ ہے اس لئے 7ہزار طلبہ کے لئے ضرورت کے مطابق ہی اساتذہ رکھا جائے باقی اساتذہ کو شگر اور دیگر اضلاع میں این آئی ایس سمیت پوسٹینگ کی جائے تو جن اضلاع میں اساتذہ کی کمی ہے وہاں وہ کمی بھی دور ہوجائیں گے اور معیار تعلیم بھی بہتر ہوسکتا ہے
محکمہ تعلیم کا انوکھا نظام ،شگر میں14500طلبہ کیلئے 290اساتذہ جبکہ 7ہزار طلبہ پر مشتمل ضلع کھرمنگ میں 710اساتذہ تعین۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا