گلگت (تحریر نیوز نیٹ ورک) متاثرین دیامر بھاشا ڈیم کمیٹی کے ممبران نے گلگت پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایک بار پھر مطالبات کی منظوری اور ماضی میں کئے ہوئے وعدوں پر عمل درآمد رکرنے کا مطالبہ کردیا۔ متاثرین کا کہنا تھا کہ حکومت معاہدہ 2010 کے مطابق طے شدہ ماڈل ویلیجز میں متاثرین کی فوری آبادکاری کا بندوبست کیا جائے اور ان تمام کاموں کی تکمیل کیلئے چلاس ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا قیام جلد از جلد عمل میں لایا جائے۔ اُنہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان کے تمام کالجز میں متاثرین دیامر بھاشا ڈیم کو خصوصی کوٹہ مختصکریں اورمعاہدے کے مطابق متاثرین کو ملازمتیں دی جائیں ۔
متاثرین کا یہ بھی مطالبہ تھا کہ واپڈا آفس چلاس کے جنرل منیجر کا متاثرین کے ساتھ مسلسل جابرانہ رہے ہیں لہذا اُنہیں فور ا تبدیل کرکے کسی عوام دوست شخص کو تعین کریں تاکہ معاملہ بگڑنے کے بجائے حل ہوسکے۔ متاثرین نے وزیر اعظم پاکستان ، چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف آف آرمی سٹاف سے متاثرین کے تحفظات و خدشات کو دور کرنے میں کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
متاثرین کے وفد نے عوامی ایکشن کمیٹی کے عہدے داران سے بھی ملاقات کی اور دیامر بھاشا ڈیم کی ڈیم رائلٹی اور متاثرین کی آباد کاری سمیت دیگر مسائل پر گفتگو ہوئی۔ اس موقع پر چیرمین عوامی ایکشن کمیٹی مولاناحافظ سلطان رئیس الحسینینے حکومت سے متاثرین کے تمام جائز مطالبات پر من عن منظور کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا