نیویارک (ویب ڈیسک) وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اکہتر ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پڑوسی ممالک کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات چاہتا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان اپنی خود مختاری اور قومی مفادات پر سمجھوتا نہیں کرے گا، پاکستان قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ پر کسی سودے بازی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ بھارتی وزیرَ اعظم مودی نے سیاست کو امن پر فوقیت دی، خطے کے امن کی راہ میں مسئلہ کشمیر سب سے بڑی رکاوٹ ہے، مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر امن قائم نہیں ہوسکتا، دہشت گردی کی آڑ میں بھارت کشمیر میں مزید مظالم نہیں ڈھا سکتا۔
انھوں نے مزید کہا کہ بھارتی قابض افواج نہتے شہریوں پر چڑھائی کرتے آئی ہیں، بھارت کو ہمارے صبر کا امتحان نہیں لینا چاہیے، آزاد جموں کشمیر میں کمیشن کو خوش آمدید کہیں گے، رپورٹ کی سفارشات پر جلد عمل درآمد کی سفارش کرتے ہیں، یہ رپورٹ پاکستان کے مؤقف کی تائید کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بھارتی ایما پر پاکستان میں دہشت گردوں کی مالی معاونت اور منصوبہ بندی کی گئی، اے پی ایس اور مستونگ حملے کے دہشت گردوں کو بھارتی پشت پناہی تھی۔
شاہ محمود نے اردو میں خطاب کرتے ہوئے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ کلبھوشن نے بھارتی حکومت کی ایما پر پاکستان میں دہشت گردی کی پلاننگ کی، ہم تمام واقعات کے ثبوت بھارت اور اقوام متحدہ سے شیئر کرنا چاہتے تھے، پاکستان اسلحے کی دوڑ کم کرنے کے لیے بھارت سے بات کرنے کے لیے تیار ہے۔ شاہ محمود قریشی نے افغانستان میں داعش کی عمل داری کو باعثِ تشویش قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کافی عرصے سے بیرونی قوتوں کی غلط فہمیوں کا نشانہ بنتے آ رہے ہیں، پاکستان طویل عرصے سے غیر ملکی پناہ گزینوں کی میزبانی کرتا آیا ہے۔ وزیر خارجہ نے یو این اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہا ’آج دنیا ایک دوراہے پر کھڑی ہے، آج عالمی اصول متزلزل دکھائی دیتے ہیں، تجارتی جنگ کے گہرے بادل افق پر نمودار ہیں، مشرقِ وسطیٰ کے حالات تشویش ناک ہیں، مسئلہ فلسطین آج بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان سلامتی کونسل میں اصلاحات کی کوشش کرتا رہے گا، پاکستان عالمی امن مشن میں حصہ لینے والا ملک ہے، پاکستان آزادی سے لے کر اب تک اقوامِ متحدہ کے منشور کا پاس دار ہے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا