اسلام آباد(تحریر نیوز نیٹ ورک)وزیر اعظم ہاؤس میں وزیراعظم عمران خان کی صدارت مشترکہ مفادات کونسل کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال اور وزیراعلیٰ صوبہ خیبر پختونخواہ محمود خان شریک ہوئے۔
میڈیاذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کے پہلے اجلاس میں سات نکاتی ایجنڈا زیر غور لایا جارہا ہے، جس میں کراچی کو 1200 کیوسک اضافی پانی دینے اور بلوچستان کے توانائی مسائل کے حل کیلئے اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔اجلاس میں پٹ فیڈر اور کیرتھر کینال کو پانی فراہم کرنے پر غور ہوگا۔ ای او بی آئی اور ورکرز ویلفیئر بورڈ کے معاملات پر مشاورت ہوگی۔
اجلاس میں پیٹرولیم پالیسی 2012ء میں ترمیم پر بھی تبادلہ خیال ہوگا۔ جبکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے معاملات کا جائزہ بھی لیا جائے گا،اس کے علاوہ وزیراعظم قومی صفائی مہم شروع کرنے کیلئے وزرائے اعلیٰ سے مشاورت کریں گے۔ وفاقی حکومت کے ریگولیٹری معاملات سے متعلق ٹاسک فورس کے قیام پر غور ہوگا۔
وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے گلگت بلتستان کو نظرانداز کرنے پر گلگت بلتستان کے لوگوں نے سوشل میڈیا پر شدید احتجاج شروع کردیا،فیس بُک ٹیوٹراستعمال کرنے والے صبح سے اس معاملے کو لیکر شکوہ کناں نظر آتا ہے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ویسے تو گلگت بلتستان آرڈر 2018 کو گلگت بلتستان کے عوام اور یہاں کے سیاسی اور مذہبی قیادت مسترد کرچُکے ہیں لیکن اُس مسلط کردہ جی بی آرڈر 2018 کے تحت مشترکہ مفادات کونسل ،ارسا، این ایف سی ، نیشل اکنامک کونسل میں بطور مبصر گلگت بلتستان کو نمائندگی دی گئی ہے اس کے باوجود جی بی کو نظر انداز کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔
سوشل میڈیا پرلوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان کیلئے ہرمیدان میں سب سے بڑھ کر سب سے آگے قربانی دینے والا خطہ آج بھی بنیادی حقوق سے محروم ہیں لیکن دفاعی جعرافیائی اور سی پیک گیٹ کی حیثیت والے اس خطے کو ہرمعاملے میں نظر کرنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کو آگر آئین پاکستان میں جگہ نہیں دے سکتے تو مسلہ کشمیر کی حل تک کیلئے اس خطے کو خطے کی متنازعہ حیثیت کے مطابق بین الاقوامی چارٹرڈ کو سامنے رکھتے ہوئے حقوق دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا