گلگت(ظفر اقبال سے) روزنامہ بانگ سحر کے چیف ایڈیٹر اور گلگت بلتستان کےسنئیر صحافی دولت جان المعروف ڈی جے مٹھل ضمانت پر رہاہوگئے۔ضلع غذر سے تعلق رکھنے والے ڈی جے مٹھل پر مبینہ طور پر غیر ملکی فنڈنگ کے ذریعے پاکستان مخالف عزائم کا الزام تھا اوراُنہیں اکتوبر 2016 میں دہشتگردی ایکٹ شیڈول فور لگا کر گرفتار کرکے گلگت جیل میں پابند سلاسل کیا ہوا تھا۔
جبکہ اُنکا شروع سے یہی کہنا تھا کہ وہ کسی بھی حوالے سے اس قسم کے معاملے میں ملوث نہیں لیکن گلگت بلتستان کی منتازعہ حیثیت کے مطابق صحافت اور اخبار چلانا اُنکا اصل جرم ہے،اُنہوں گرفتاری سے پہلے اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات کو بھی مسترد کیا تھا۔
یاد رہے اُنکی گرفتاری سے پہلے روزنامہ بانگ سحر کی اشاعت اور سرکولیشن پر پابندی لگ گیا تھا ۔اُنکی گرفتاری کے بعد گلگت بلتستان کے صحافتی تنظیموں نے بھی اُنکا ساتھ چھوڑ دیا تھا اس وجہ سے گلگت بلتستان کے صحافتی تنظیموں اور پریس کلب کے کردار پر سوشل میڈیا پر مسلسل تنقید بھی کئے جاتے رہے ہیں۔
تحریک انصاف کی حکومت چاہئے کہ گلگت بلتستان میں صحافیوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں۔حقیقت تک رسائی یہاں ممکن نہیں رہا اس لئے ذاتی بیانات کو خبر بنا کر اخبار کی شہ سرخیوں میں شامل کیا جاتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ گلگت بلتستان میں حقیقی معنوں صحافت کرنے والوں کو تحفظ فراہم کیا جائیں تاکہ یہ حقیقت تک رسائی حاصل کر سکتے۔
تفصیلات کے مطابق رہائی کے آرڈر شیٹ پرفاضل جج کی طرف دستخط نہ ہونے کی وجہ سے مکمل طور پر رہائی آج ممکن نہ ہوسکی لہذا ضمانت منظور ہونے کے بعد کل اُنکی مکمل رہائی یقینی ہے۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا