گلگت( نامہ نگار خصوصی) باخبر ذرائع کے مطابق محکمہ آڈیٹر جنرل گلگت بلتستان غیر مقامی آفیسران کی چراہ گاہ بن اورمقامی ڈومیسائل ہولڈرز کیلئے نوگو ایریا بن گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اعزاز علی نامی ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ آڈٹ میں گلگت بلتستان کے ڈومیسائل ہولڈر کو برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ، موصوف اس سے پہلے وفاق سے آنے والے گلگت بلتستان کے آفیسران کو بھگانے کے حوالے شہرت رکھتے ہیں۔
آج اس کا اپنا تین سالہ دور پورا ہوا ہے مگر کونسل کی طرف سے فارغ ہونے کے باوجود وہ واپس جانے کئلئے تیار نہیں ہے، ان کا دعوی ہے کہ ان کے ہوتے ہوئے کوئی مائی کا لعل گلگت بلتستان کے ڈومیسائل ہولڈرز کو محکمہ آڈٹ میں پوسٹ نہیں کر سکتا۔
یہ ادارہ جو کہ ٓازاد کشمیر کے طرز پر قائم ہوا تھا ابتداء میں آفس قائم کرنے کے لیے ملک بھر سے گلگت بلتستان کے ملازمین کو اپنے سیٹلڈ جگہوں سے زبردستی گلگت پوسٹ کیا گیا اور ساتھ یہ وعدے بھی کیے گیے کہ ان کو مستقلا گلگت میں رکھا جائے گا۔آفسقائم ہونے کے بعد فصلی بٹیر مراعات کے چکر میں گلگت آنا شروع ہوگیے اور ایک ایک کر کے مقامی آفیسران کو واپس کردیا۔ ایک ڈپٹی ڈایکٹر صاحب(اعزاز علی) یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ ان کے ہوتے ہوے کوئیمایی کا لال گلگت بلتستان والے کو اس افس میں نہیں لا سکتا۔
یاد رہے یہ ادارہ آذاد کشمیر کے طرز پر بنا تھا جس کا انتظام جی بی کونسل کے پاس ہے ۔ اور آ ٓذاد کشمیر آڈٹ آفس میں کوئی غیر مقامی تعینات ہی نہیں جبکہ گلگت بلتستان میں یہاں کے لوگوں کو نا پسندیدہ قرار دیا جاتا ہے ۔ وزیر اعلیٰ کو چاہئے کہ اس اہم مسلے کی طرف توجہ دیں اور گلگت بلتستان کے سرکاری اداروں میں مسلط غیرمقامی افسران پر مقامی افراد کی بھرتیوں کو خصوصی فوقیت دیں ۔


More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا