بلتستان کے سیاسی اور سماجی کارکنان حکومتی عتاب کا شکار کیوں۔ ؟خصوصی رپورٹ۔

0 0

گلگت (نامہ نگار خصوصی)بلتستان کے سیاسی ،سماجی،مذہبی کارکنان اور سوشل ایکٹویسٹ افراد کے خلاف حکومتی کریک ڈاون سے یہ بات واضح ہوتی جارہی ہے کہ سرزمین بلتستان گلگت بلتستان کے قومی حقوق کا مرکز بن چکا ہے۔ بلتستان سٹوڈنٹس فیڈریشن کے بانی رہنما سید حیدر شاہ رضوی مرحوم جس کو سکردو کرگل روڈ کھولنے کے مطالبے پر غدار قرار دیا گیا اور عقوبت خانوں میں بدترین اذیت سے گزارا گیا۔ گزشتہ چند سالوں میں سبسڈی اور ٹیکس کے خلاف تحریکوں میں بلتستان کے عوام نے صف اول میں کھڑا ہو کردار ادا کیا۔ اور حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرایا گیا۔
ٹیکس کے خلاف تحریک کے روح رواں آغا علی رضوی کی قیادت میں دارالخلافہ گلگت کیطرف لانگ مارچ کا آغاز ہوتے ہی حکومتی ایوانوں میں لرزہ طاری ہوگیا۔ کامیاب مذکرات کے بعد لانگ مارچ کے قافلے کو واپس سکردوکی جانب رواں کردیا گیا۔ لیکن ٹیکس تحریک کی کامیابی کے بعد آغا علی رضوی کی بڑھتی ہوئی فعالیت کو دیکھ کر انکو اور انکے قریب ترین رفقاء کو شیڈول فور میں شامل کرکے پابند کرنے کی کوشش کی گئی۔گزشتہ مہینے پیپلز پارٹی ضلع سکردو کے سنئیر نائب صدر شہزاد آغاء کی گرفتاری کے خلاف عوام بلتستان نے کھرمنگ کیطرف لانگ مارچ کرکے بھی یہ تاثر دیا کہ قومی حقوق کے لئے کام کرنے والے رہنماؤں کی گرفتاری پر خاموشی اختیار نہیں کی جاسکتی ہے۔
شیڈول فور میں شامل بلتستان سے تعلق رکھنے والے متحرک سیاسی کارکنان آصف ناجی آیڈوکیٹ اور شبیر مایار کو چیف سکریٹری جی۔بی بابر حیات تارڈ کے جی۔بی کے عوام کے خلاف تذضحیک آمیز بیان کے خلاف احتجاج کرنے پر سکردو پولیس نے گرفتار کرکے دیوسائی براستہ استور گلگت متتقل کردیا گیا۔ حکومت بلتستان کے عوام کے ممکنہ ا حتجاج سے بچنے کے لئے ان سیاسی کارکنان کو گلگت شہر لا کر انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش کردیا۔ ادھر بلتستان سے موصولہ اطلاعات کے مطابق آصف ناجی ایڈوکیٹ اور شبیر مایار کی گرفتاری کے خلاف عوام میں سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ سکردو تھانے میں اگر ان سیاسی کارکنان کو رکھا جاتا تو یقینا عوام تھانے پر دھاوا بول کر انکو رہا کرانے کا پلان بنا چکے تھے۔ گلگت بلتستان یونائیڈڈ موومنٹ کے چیرمین انجینئر منظور پروانہ اس سے پہلے متعدد مقدمات میں جیل کاٹ چکے ہیں۔ اور عدالتوں کا سامنا کررہے ہیں۔
منظور پروانہ کو بھی حکومت نے شیڈول فور میں ڈال رکھا ہے۔ جبکہ انٹرمیڈیٹ کے ایک طالب علم اعجاز بلتی کو سوشل میڈیا پر قومی حقوق کے لئے آواز آٹھانے پر شیڈول فور میں ڈالا گیا ہے۔ ضلع کھرمنگ سے تعلق رکھنے والے سوشل ایکٹویسٹ اور سیاسی و سماجی کارکن انجینیر شبیر حسین کو بھی حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے اور قومی حقوق کے لئے آواز آٹھانے پر شیڈول فور میں ڈال کر اظہار رائے پر قدغن لگانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اسی طرح بلتستان سے تعلق رکھنے والے گلگت بلتستان کے ممتاز کالم نگار شیر علی انجم کے خلاف بھی پچھلے سال حکومتی منظور نظر صحافیوں کے ذریعے غداری جیسے الزامات لگائے گئے اُن کے خلاف گلگت کے کچھ صحافیوں نے نظریاتی اختلاف کی بنیاد پر سوشل میڈیا پر باقاعدہ مہم چلایا۔یوں اہلیان بلتستان کا گلگت بلتستان کے خدمات دیگر اضلاع سے کہیں بہتر ہے جسے سراہنے کی ضرورت ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بلتستان میں گزشتہ چند عشروں سے قومی حقوق کے لئے آٹھنے والی آوازوں سے حکومتی ایوانوں میں لرزش طاری ہے۔ اور سرزمین بلتستان گلگت بلتستان کے قومی حقوق کا مرکز بن چکا ہے۔ بلتستان میں قومی حقوق کی سرگرمیوں سے گلگت بلتستان کے دیگر اضلاع میں شعور وآگاہی اور بیداری کی لہر آٹھ رہی ہیں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website