اسلام آباد( نامہ نگار خصوصی) 12 اگست کو پاکستان کے نجی ٹیلی ویژن پر دفاعی تجزیہ نگار امجد شعیب اور اینکرپرسن محمد مالک کی جانب سے گلگت بلتستان خاص طور پر بلتستان کے عوام پر بھارت میں تربیت حاصل کرنے اور راء سے پیسے لیکر گلگت بلتستان سے گزرنے والی سی پیک روٹ پر دہشتگردی کی منصوبہ بندی کا دعویٰ کیا تھا۔ اسی پروگرام میں اینکر پرسن کی جانب سےیہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ گلگت بلتستان کو آغا خان اسٹیٹ بنانے کی تیاریاں ہورہی ہے۔ اس بیان کے بعد گلگت بلتستان میں ہنگامہ پرپا ہوگیا تھا۔ دنیا بھر میں مقیم گلگت بلتستان کے لوگوں نے اُن کے خلاف بھرپور احتجاج کیا ،مضامین لکھے گئے ،سکردو میں شدید احتجاج بھی ہوا ، لندن اور کویت میں پاکستانی ہائی کمیشن میں احتجاجی ریکارڈ بھی جمع کرایا گیا۔ اس بیان کے حکومت گلگت بلتستان بھی ایکشن میں آیا اور وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن نے امجد شیعب اور محمد مالک سے اس الزام پر ثبوت مانگا اور ثبوت نہ ملنے کی صورت میں گلگت بلتستان کے عوام سے معافی مانگنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ اسی طرح اپوزیشن لیڈر کپٹن شفیع خان سمیت گورنر گلگت بلتستان عوامی ایکشن کمیٹی سمیت تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے بھر احتجاج کیا جس کے نتیجے میں اُنہوں عوام سے میڈیا پر غیرمشروط معافی مانگی ۔اُنہوں نے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کو اس حوالے امجد شیعب کے ساتھ پروگرام میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ وزیر اعلیٰ ذاتی مصروفیات کے باعث بروقت وقت پروگرام میںشامل نہیں ہوسکے۔ لیکن آج گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن نے پروگرام میں شرکت کرکے اُن تمام الزامات کو قطعی طور پر مسترد کیا اور شکوہ کیا کہ گلگت بلتستان کی ستر سالہ آئینی حقوق سے محرومیوں سےپریشان ہمارے عوام کے سخت الفاظ کا مطلب غداری نہیں بلکہ شکوہ ہے۔ اُنہوں نے کہا گلگت بلتستان کے عوام تمام تر محرومیوں کے باوجود پاکستان سے پیار کرنے والے لوگ ہیں۔خاص طور بلتستان میںآج بھی جرائم کی شرح زیرو ہے لہذا مفروضات کی بنیاد پر یہ الزام درست نہیں۔ اُنہوں مزید کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت اپنے خطے کے مسائل کو خوب جانتے ہیں اور ہمیں معلوم ہے کہ کون دہشت گرد ہے۔ اُنہوں اسماعیلی اسٹیٹ کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے پرنس کریم آغا اور اُنکے ادارےکا گلگت بلتستان کی ترقی اور تعمیر میں مثبت کردار کا خوب سراہا۔ اُنہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ گلگت بلتستان پر بات کرنے سے پہلے میڈیا کو چاہئے کہ گلگت بلتستان کے کسی باشندے کی شرکت کو یقینی بنائیں۔ گلگت بلتستان کے لوگ بیرون ملک محنت مزدوری کرکے زردمبادلہ کی ترسیل کرتے ہیں جو ہماری معیشت کیلئے ایک سہارا ہے۔
سوشل میڈیا اُن اس بیان کو خوب سراہا جارہا ہے اُن کے مخالفین بھی وزیر اعلیٰ کی تعریف کئے بغیر رہ نہیں سکے، فیس بُک اور ٹیوٹر پر وزیر اعلیٰ کے قومی بیانئے کو اورسیز میں کام کرنے والوں کی طرف سے بھی خوب سراہا جارہا ہے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا