گلگت ( خصوصی رپورٹ) گلگت بلتستان میں جہاں نظام زندگی کے دیگرمعاملات کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے وہیں صحافت کا شعبہ بھی شدید زبوں حالی کے شکار ہیں اور یہ شعبہ اقدار سے ہٹ کر روائتی بن چُکی ہے۔ اس وقت پورے خطے میں تحقیقاتی صحافت کے فقدان کی وجہ سے سرکاری ادارے نہ صرف کرپشن کی گڑھ بن چُکی ہے بلکہ کچھ ذمہ دار صحافیوں کی جانب سے اس قسم کے اہم ایشوز پر چھان بین کرنے کی کوشش کرنے پر بھی اُنہیں ناکامیوں اور پریشانیوں کا سمانا کرنا پڑتا ہے۔ جس میں سب سے بڑا مسلہ خبر کی اشاعت ہے کیونکہ اخبار مالکان خبر کی اشاعت کیلئے مالی مفادات کو سامنے رکھتے ہیں ۔ اس سے بھی بڑا المیہ ہے کہ گلگت بلتستان کے صحافتی اداروں کا ایک دوسرے کے ساتھ صحافتی معیار کر بہتر کرنے کیلئے مقابلہ کرنے کے بجائے اقتدار کے ایوانوں میں اثررسوخ بڑھانے کیلئے ایک دوسرے پر سبقت لیجانے کی کوششیں کرنا معمول کی بات ہے۔ذیادہ تر اخبارات میں رسمی بیانات ہیڈلائن بن جاتی ہے لیکن حقائق پر مبنی عوام ایشو سے متعلق خبریں اور مضامین وہ بھی اگر حکومت وقت کے خلاف ہے تو چھاپتے ہی نہیں،دوسری طرف کسی کے کہی ہوئی باتوں کو مکمل تحقیق کرکے چھاپنے کا رواج شروع دن موجود ہی نہیں یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا کے آنے سے عوام کا مقامی پرنٹ میڈیا پر اعتماد ختم ہوچُکی ہے اور پڑھا لکھا طبقہ مقامی اخبارات کی خبروں پر بھروسہ ہی نہیں کرتے۔ اس وقت سوشل میڈیا کے ذریعے ہی گلگت بلتستان کے عوام کو حقائق سے اگہی مل رہا ہے اسی وجہ سے حکومت نے اس خطے کو 3G اور 4G انٹرنیٹ سے محروم رکھا ہوا ہے تاکہ گلگت بلتستان کے سلگتے عوامی اور قومی مسائل سے پاکستان اور دنیا بھر کے لوگ بے خبر رہیں۔
حکومتی کرپشن سے تنگ معاشرے کے عوام نے گزشتہ ایک سالوں میں گلگت بلتستان کے قومی احتساب بیورو کی کاروائیوں پر اعتماد کا اظہار کیا ہے سوشل میڈیا پر نیب کی کارکردگی کو سراہا جارہا ہے، اسلام آباد میں حکومت کی تبدیلی کے بعد گلگت بلتستان میں کرپٹ عناصر کا گھیرا تنگ کرنے کیلئے سوشل میڈیا کو عوام کی طرف سے مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے، عوامی حلقوںکا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان میں مسلم لیگ نون کی حکومت نے کرپشن کے نت نئے طریقے ایجاد کئے ہوئے ہیں جس کیلئے یہ لوگ ہمیشہ فرنٹ مین کا استعمال کرتے ہیں لیکن اس قسم کے معاملات پر تحقیق کرنے کی مقامی پرنٹ میڈیا میں اپنے مفادات کی خاطر صلاحیت نہیں۔ ہم اس اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر ایک سروے کرایا جس میں دس ہزار کے قریب لوگوں نے رائے دی اور ذیادہ تر افراد کا یہی کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے جس طرح پاکستان کے دیگر صوبوں میں کرپشن کے خلاف اعلان جنگ کیا ہے اُسکا دائرہ کار گلگت بلتستان تک بڑھائیں گلگت بلتستان میں قومی احتساب بیورو کو مزید فعال بنائیں اور تمام سرکاری محکموں خاص طور پر محکمہ ایل جی آر ڈی( اس دارے کے حوالے سے مسلسل عوامی شکایات منظرعام آتے رہے ہیں کہ یہاں پراجیکٹ صرف فائلوں میں بنا کر پڑپ کرجاتے ہیں) محکمہ پی ڈبیلو ڈی ( جہاں ایک ڈاکٹر صرف کرپشن کرنے کی غرض سے وزیر بنا ہوا ہے) محکمہ صحت۔اور سول سپلائی(گندم کی سپلائی میں کرپشن اور اسمگلنگ کے حوالے سے سے عوامی شکایات ہیں) کے ذمہ داران کے خلاف کاروائی کرکے کرپٹ عناصر کو منطقی انجام تک پونچائیں۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا