خارجہ پالیسی پاکستان سے شروع اور پاکستان پر ہی ختم ہوگی۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

0 0

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) نومنتخب وزیر کاخارجہ شاہ محمود قریشی ایوان صدر میں عہدے کا حلف لینے کے بعد دفتر خارجہ پہنچے ۔جہاں خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ کچھ قوتیں ملک کو تنہائی کی طرف دھکیلنے کی کوشش کرتی آئی ہیں جس کی وجہ وزیر خارجہ کی عدم موجودگی تھی اور وزیر خارجہ نہ ہونے سے ملک کو نقصان پہنچا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ خارجہ پالیسی پاکستان سے شروع اور پاکستان پر ہی ختم ہوگی اور اس پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش ہوگی، ملک کو عالمی تنہائی سے نکالنے اور درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوشش کریں گے کہ پاکستان کی عزت و وقار میں اضافہ ہو اور اس کے لیے پہلے ہمیں اپنی ترجیحات کا تعین کرنا ہوگا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ مستقبل میں کچھ ملکوں سے رابطے کیے جائیں گے اور 6 ممالک سے پاکستان کے خارجہ امور بہت اہمیت رکھتے ہیں، افغانستان کے وزیر خارجہ سے رابطہ کر کے دورہ کابل کی خواہش رکھتا ہوں اور ٹھوس پیغام لے کر جانا چاہتا ہوں۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان اور بھارت ہمسائے اور ایٹمی قوت ہیں، بھارت سے تسلسل کے ساتھ ڈائیلاگ کی ضرورت ہے تاہم پاکستان کا مفاد سب سے مقدم ہے، ہمیں حقائق تسلیم کرنا ہوں گے، ہم چاہیں یا نہ چاہیں کشمیر ایک مسئلہ ہے جسے دونوں ممالک نے تسلیم کیا اور اعتراف بھی کرتے ہیں۔شاہ محمود قریشی نے حزب اختلاف کو مشاورت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ عوام کی منتخب حکومت کو عوام کے امنگوں کے مطابق چلنا ہے، حنا ربانی کھر اور خواجہ آصف سے بھی مشاورت کروں گا۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمارے بہت سے سفارتکار مختلف فیلڈز میں مہارت رکھتے ہیں، ان سے ہی مشاورت کی جائے گی اور انہیں بھی بروئے کار لانا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے، اپنی سوچ اور ارادے افغان قیادت کو پہنچاؤں گا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website