گلگت( ڈسٹرک رپورٹر) ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) گلگت پولیس گوہر نفیس نے دعویٰ کیا ہے کہ دیامر میں اسکولوں کو نذرآتش کرنے والے تین ملزمان گرفتار کر لیے گئے ہیں۔ مشیر اطلاعات شمس میر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پولیس نے قربانی دے کر گلگت شہر کو جلنے سے بچایا ہے، جو دہشت گرد مارے گئے ہیں وہ انتہائی خطرناک اور پولیس کو ایک عرصے سے مطلوب تھے۔انہوں نے کہا کہ مارے گئے دہشت گرد کمانڈر خلیل کا مقصد پولیس کو دیامر میں الجھا کر گلگت میں بڑی کارروائی کرنا تھا لیکن پولیس نے اس منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ گرفتار ہونے والے تینوں ملزمان سے تحقیقات جاری ہیں جبکہ مقابلے میں مارے جانے والے ملزمان کی شناخت کمانڈر خلیل اور کمانڈر عمر کے نام سے ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ کمانڈر خلیل نانگا پربت کے بیس کیمپ میں کرنل اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) کو شہید کرنے کے مقدمات میں ملوث تھا اور اس کے سر کی قیمت 30 لاکھ روپے تھی، کمانڈر عمر مقابلے میں زخمی ہوا تھا جو بعد میں دم توڑ گیا۔مشیر اطلاعات شمس میر نے کہا کہ ملزمان سے مقابلے میں شہید ہونے والے تینوں پولیس اہلکاروں کو ستارہ جرات دلانے کے لیے حکومت سے سفارش کریں گے۔گزشتہ روز گلگت کے علاقے وادی کارگاہ میں دہشت گردوں کے پولیس چوکی پر حملے میں تین پولیس اہلکار شہید اور دو زخمی ہو گئے تھے جبکہ پولیس کی جوابی فائرنگ میں دو دہشت گرد مارے گئے تھے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا