گلگت(نامہ نگار خصوصی) گلگت کے سیاحتی مقام کارگاہ جوت پولیس چوکی پر دہشتگردوںکے حملے کے بعد تین پولیس کا تین جوان بروقت امداد نہ ملنے کی وجہ سے شہید ہونے کا خدشہ کیا جارہا ہے۔ آج دن بھر سوشل میڈیا پر اس حوالے سے عوام سراپا احتجاج نظر آیا، عوامی حلقوں نے حکومت سے سوالات کے انبھار لگا دئے لوگوں کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان میں ریسکو 1122 کے پاس ہیلی کاپٹر نہ ہونے اور حکومت کی جانب سے زخمی ہونے والے جوانوں کو بروقت ہیلی کاپٹر کے ذریعے راولپنڈی لے جاتے تو جان بچایا جاسکتا تھا لیکن بدقسمتی سے مسلم لیگ نون کی حکومت کیونکہ اس وقت خود عجیب سے کیفیت سے گزر رہا ہے اس وجہ ہے پولیس کے تین جوان بروقت علاج نہ ملنے کی وجہ سے لقمہ اجل کو لبیک کہہ گیا۔ عوامی حلقوں کا سوشل میڈیا پر سوال اُٹھایا جارہا ہے کہ جو سرکاری ہیلی کاپٹر سرکاری اور فوجی اہلکاروں کو ہنزہ کی سیر کرواتی ہے اسے پولیس کی مدد اور فرار ہونے والے دہشتگردوں کے تعاقب کے لئے کیوں نہی بھیجا۔ حکومت اس حوالے سے ذرا بھی تیزی دکھاتے تو بھاگنے والے دہشت گردوں کا پکڑنا اور جوانوں کی جانوں کو بچایا
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا