سکردو ( پ،ر ) ضلعی انتظامیہ کے زیر اہتمام منعقدہ سمینار میں بلتستان یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد نعیم خان نے شرکاء کو اہم بریفنگ دی جس میں سرکاری ، نیم سرکاری اراکین سمیت عوامی ، سماجی، مذہبی اور سیاسی اکابرین نے شرکت کی۔ سمینار کا اصل مقصد لوگوں کو پانی کی بڑھتی ہوئی قلت اوراس کی وجہ سے ہونے والے مسائل اور نقصانات اور ان مسائل کے حل کے لئے لائحہ عمل کے بارے میں آگاہی دینی تھی۔ وائس چانسلر بلتستان یونیورسٹی نے شرکاء کو انڈس واٹر ٹریٹی کے تاریخی پس منظر پیش کرکیا۔ اُنہوں نے شرکاء کو گلگت بلتستان کی واٹر ریسورسز کی اہمیت کو اجاگر کراتے ہوئے کہا کہ اس علاقے میں نہایت ہی مفید گلیشیرز موجود ہے۔جو آنے والے حالات کا مقابلہ کرنے میں کارآمد ثابت ہوسکتا ہے۔ جس میں بلترو ، سیاچن، بیافو ، بتوراگلیشئر اور دیگر گلیشئرشامل ہیں۔ ڈاکٹر محمد نعیم خان نے مزید کہا کہ گلیشئر گرافٹنگ کے حوالے سے مقامی ٹیکنالوجی سے متعلق روایات کو محفوظ کرنے کے سلسلے میں بلتستان یونیورسٹی کے کردار پر بھی سیر حاصل بریفنگ دی۔ جس پر حالیہ ڈاکومینٹری بھی ریلیز کردی گئی تھی۔اُنہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس واٹر ریسورس تو موجود ہے۔ مگر پانی کے تقسیمات کے انتظام میں خاطر خواہ بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس سال سدپارہ ڈیم میں پانی کی سطح گِر کر کم ہونا لمحہ فکریہ ہے۔جس کے لئے ہمیں فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا