شگر(عابدشگری) شدید سیلابی ریلے کی گائوں میں داخل ہو کر تباہی کے بعد چھوترون کے مرد و خواتین خوف کی حالت میں گھروں کو چھوڑ کر پہاڑوں کے کوہ میں رات گزارنے پر مجبور ہے۔ سیلابی ریلے کی وجہ سے ندی کی سطح کئی فٹ اونچا ہوچکا ہے ،مزید سیلاب کی صورت میں پانی اور سیلابی ریلا گھروں میں داخل ہونے کا قوی امکان ہے۔ جس سے خوف ناک تباہی کا خدشہ ہے۔لہذا اپنے جان جوکھوں میں ڈال کر خوف کی حالت میں گھروں پر نہیں رہ سکتے۔ ڈیزاسٹر منیجمنٹ ،شگر انتظامیہ ار صوبائی حکومت ہنگامی بنیادوں پر چھوترون گائوں کو بچانے کیلئے اقدامات کریں۔تفصیلات کے مطابق گذشتہ دنوں چھوتروں میں آنے والی شدید سیلاب کی وجہ سے اہالیان چھوترون کی ہزاروں کنال مزروعہ اراضی فصل سمیت سیلاب برد ہوئی تھی۔ اس وقت اصل بڑے سیلاب کے بعد بہنے والے سیلابی ملبہ کی وجہ سے نالہ کی سطح بلند ہو کر نالہ کا تقریبا 50 فٹ لمبا آر سی سی پل کے قریب پہنچی ہے ،پل کے نیچے سے صحیح طرح جھکے بغیر گزر نہیں سکتے ، اسی حالات دوبارہ سیلاب آنے کی صورت میں پل کے نیچے سے گزرنے کی گنجایش بالکل نہیں ہے ،نہ پل کے اوپر سے ،بڑی آسانی کے ساتھ رہایشی ایرے کی طرف آسکتا ہے ، اہالیان چھوترون کے بچے ،بوڑے تک رات بھر محفوظ مقامات کی طرف بھاگنے کی تیاری مین رات بھر جاگے ہوے ہیں اور پہاڑوں کی دامن میں رات گزارنے پر مجبور ہے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا