گلگت(چیف رپورٹر) مسلم لیگ ن کی حکومت نے سیاسی کارکنوں پر انتقامی کاروائی کرکے امریت کی یاد تازہ کردی۔جتنے مظالم ن لیگ کے دور میں سیاسی کارکنوں پر ہوئے ہیں وہ کسی بکے بھی دور میں نہیں ہوئے ہیں یہ بات پی پی پی لیبر ونگ گلگت ڈویثزن کے صدر محمد علی شاہ نے اپنے ایک بیان میں کہا انھوں نے کہا کہ غلام شہزاد اغا کو صرف اس لئے مقدمہ قائم کرکے گرفتار کرلیا گیا ہے کہ وہ ٹیکس ایشو گندم سبسڈی و دیگر ایشوز پر عوام کے اواز بن گئے تھے مگر یہ رویہ حکومت کو ایک انکھ نہیں بھایا جس کی وجہ سے اس کے خلاف انتقامی کاروائی کا اغاز کردیا انھوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی گزشتہ تین سالوںمیں مسلم لیگ ن کی حکومت میں سیاسی کارکنان سمیت صحافیوں پر بھی حکومت نے شیڈول فور لگاکر نہ صرف ان کو ہراساں کیا بلکہ کچھ ابھی تک جیلوں میں ہے گلگت بلتستان کی تاریخ میں اج تک اتنا ظلم سیاسی کارکنان اور صحافیوں پر نہیں ہوا تھا جتنا مسلم لیگ کے اس تین سالہ دور حکومت میں ہوا ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے اگر حکومت نے ہوش کی ناخن نہیں لئے اور انتقامی کاروائیاں بند نہیں کی تو عوام حکومت کے در و دیوار ہلا کر رکھ دینگے حکومت اتنا ظلم کرے جتنا کل وہ برداشت کر سکے ہم اعلی حکام اور اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر تمام سیاسی کارکنان سے تمام مقدمات ختم کرے اور ان کو فوری طور پر رہا کرے ورنہ مسائل کم ہونے کے بجائے بڑھ جائینگے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا