سکردو (قاسم قاسمی)چیف سیکٹریری گلگت بلتستان کے دورہ بلتستان کے دوران بلتستان کے ضلع گنگچھے میں عوام کے مطالبہ کرنے پر سیخ پا ہو گئے۔سائل کو دھمکانے پر بلتستان اسٹوڈینٹس فیڈریشن ، بلتستان یوتھ فیڈریشن ، سول سوسائٹی اور دیگر سیاسی و طلبہ تنظیموں نے بھر پور احتجاج کیا۔مظاہرین حسینی چوک سے چیف سیکٹریری کے خلاف نعرہ بازی کرتے ہوئے یادگار شہداء تک ریلی کی شکل میں آئے مظاہرین ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھائے رکھے تھے جن پر چیف سیکٹریری کے خلاف نعرہ لکھا ہوا تھا۔ یاد گار شہداء پر مظاہرین سے مختلف تنظیموں کے ذمہ داروں نے خطاب کیا جس میں غلام شہزاد آغا ، کامریڈ شبیر مایار ، شاہ جی بشارت ، محمد علی دلشاد ، آصف ناجی ، نجف بھٹو ، نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چیف سیکٹریری سمیت جتنے بھی ملازمین جو گلگت بلتستان میں تعینات ہیں وہ گورنمنٹ ملازم بن کر رہیں حکمرانی کرنے کی کوشش نہ کریں۔ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے کھبی نہیں پوچھا کہ دریاء سندھ کی رئیلٹی ، سیاحت سمیت دیگر پیسے جو گلگت بلتستان سے کماتے ہیں۔ ہم نے کبھی نہیں پوچھا کہ دو سو ڈھائی سو ارب گلگت بلتستان سے کماتے ہے وہ کہاں جاتے ہے جو سو ارب تم ہمیں دینے کی طعنہ دیتے ہے یہ تمہارے صدقہ نہیں ہے جس سو ارب کی تم طعنہ دیتے ہو وہ بھی تم جیسے چند بیورکریٹ آ کے کھا کر چلے جاتے ہے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ اس چیف سیکٹریری کو گلگت بلتستان سے ٹرانسفر کرنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔


More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا