گلگت (پ،ر)وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے پری بجٹ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت 2015ءمیں قائم ہونے کے بعد پری بجٹ سیمینار متعارف کرایا گیا ۔ ہماری حکومت 4واں بجٹ پیش کررہی ہے اوراپنے اہداف حاصل کررہے ہیں۔ اپوزیشن سمیت تمام طبقہ کودعوت دی جاتی ہے کہ بجٹ کو بہتربنانے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں اورحکومت کے ساتھ تعاون کریں۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہاکہ گلگت بلتستان حکومت کے اقدامات کی وجہ سے بہتری آرہی ہے ہماری حکومت سے قبل 7ارب کے ترقیاتی بجٹ تھا جس میں سے 2ارب استعمال ہوتا تھا جبکہ 5ارب لیپس ہوجاتا تھا ۔ سابق حکومت میں منصوبوں کی منظوری کےلئے صرف40ارب روپے تک کا اختیار ہوا کرتا تھا اسی وجہ سے منصوبے مکمل نہیں ہوتے تھے۔ ماضی کی حکومتوں نے منصوبوں کو شروع کرنے سے قبل پلاننگ نہیں کی ۔اسی وجہ سے ہماری حکومت میں تمام منصوبوں کو شروع کرنے سے قبل مکمل منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ 2009ءمیں گورننس آرڈر ملا لیکن اس وقت کے وزیر اعلیٰ نے کوئی ایک قدم بہتری کےلئے نہیں لیا صوبے کا اپنا اکاونٹ نہیں تھا ۔ ہماری حکومت نے صوبے کا اپنا اکاونٹ بنایا۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہاکہ ترقیاتی بجٹ استعمال کرنے میں درپیش مسائل مسلم لیگ ن کے قائد محمد نواز شریف نے حل کردیئے۔ گلگت بلتستان کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری کی حد 1ارب ہوئی ہے۔ اصلاحات اور اختیارات ان اقدامات کو کہتے ہیں لیکن مخالفین کو نظر نہیں آتا ہے۔ گلگت بلتستان واحد صوبہ ہے جہاں ترقیاتی اور غیر ترقیاتی بجٹ تقریباً برابر ہے ۔ ہماری حکومت نے نئے ادارے بنائے لیکن غیر ترقیاتی بجٹ میں اضافہ نہیں کیا۔ پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ پہلی مرتب مل کرکام کیا گیا جس کے مثبت ثمرات سامنے آرہے ہیں۔ گلگت بلتستان آرڈر2018کےخلاف مخالفین نے منفی پروپیگنڈا کیا لیکن مختصر مدت میں گلگت بلتستان آرڈر2018کوعملی جامع پہنایا جس پر سیاسی اور عسکری قیادت کے مشکور ہیں۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہاکہ اختیارات دیگر صوبوں کے برابر دیئے گئے ہیں۔ بجٹ میں سول سوسائٹی، تاجر برداری اور عوام کا تعاون چاہتے ہیں۔ عوام کی زندگیوں میں تبدیلی لانے کےلئے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ وفاقی حکومت نے بھرپور وسائل فراہم کئے ہیں۔ تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہاکہ 5سال تک گلگت بلتستان کوٹیکس فری زون قرار دیا گیا ہے جس سے ہمیں بھرپور استعفادہ حاصل کرنا ہوگا۔ وفاقی حکومت سے وسائل لانے اور اس کا منصفانہ استعمال کو یقینی بنایاہے۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہاکہ25سے 30ارب روپے صوبے کا ترقیاتی بجٹ ہوا ہے شفافیت کے نظام کو مزید بہتر بنان ہے مثبت تجاویز کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہاکہ صوبے کو خودکفیل بنانے پر ہمیں توجہ دینا ہوگا معاشی حوالے سے خودکفالت کی منزل حصول کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا