کھرمنگ(نامہ نگار) خانقاہ معلی موضع منٹھوکھا ضلع کھرمنگ بلتستان کے ثقافتی تاریخ کی امین ہے۔ اس عمارت کی تاریخ کے بارے میں کسی کو کچھ خبر نہیں لیکن طرز تعمیر اورکشیدہ کاری سے معلوم ہوتا ہے کہ اس عمارت کو بلتستان میں قبل از اسلام بنایا ہوگا۔ گزشتہ کئی سالوں سے یہ عمارت محکمہ اثار قدیمہ کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت بنا ہوا ہے کیونکہ ادارے نے اس تاریخی اور ثقافتی عمارت کو بچانے کیلئے آج تک کچھ نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ مقامی لوگوں نے اسلامی فنڈز سے پہلے اس قدیمی اور تاریخی عمارت کی چھت کو ختم کرکے لوہے کے چادر نے ڈھانپ دیا تاکہ بارش وغیرہ سے بچایا جاسکے۔ کیونکہ اس عمارت کو گاوں کے لوگ مذہبی پرورگرام کیلئے استعمال کرتے رہے ہیں۔لیکن گاوں میں نئی طرز تعمیر کے امام بارگاہوں کے بننے سے یہ عمارت اب مزید خستہ حالی کے شکار ہیں۔یہی وجہ ہے کہ منٹھوکھا کے عمائدین کی جانب اس قدیم تہذیبی، ثقافتی اور تاریخی عمارت کی شکل کو مزید بھگاڑنے کا فیصلہ کرنے کی خبرہے۔ جو کہ بلتستان کی تاریخی ورثے کے ساتھ ظلم ہے۔ کھرمنگ انتظامیہ کو چاہئے کہ اس تاریخی عمارت کو بچانے کیلئے اپنے اختیارات کا استعمال کریں اور اس عمارت کومحفوظ بنا کر تاریخی میوزم کا درجہ دیں ۔اس سے کھرمنگ کی سیاحت کو فائدہ ہونے کے ساتھ ساتھ تاریخی ورثے کا حفاظت بھی ہوسکتا ہے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا