اسلام آباد(نامہ نگار خصوصی) حکومت گلگت بلتستان نے پیکج 2018 کے خلاف شدید عوامی رد عمل کو روکنے کیلئے میڈیا وار شروع کردیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں گلگت بلتستان کے کئی اخبارات کو ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہے جو پیکج میں موجود کچھ اچھے شقات کو 2009 کی پیکج سے موازنہ کرکے روزانہ کی بنیاد پر اپنے اخبارات میں شائع کرے گا۔ اس سلسلے ایک اخبار نے پہلا شق شائع کرددیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے شدید عوام دباو کو کم کرنے کیلئے اس مسلے کو بھی علاقائی اور مسلکی رنگ دینے کا پلان ہے جس کے مطابق کچھ سرکاری پیڈ خطیبوں سے اس پیکج کی حمایت میں تقاریر اور اخباری بیانات بھی جاری کیا جائے گا اور اس سلسلے میں آج پہلا بیان چلاس سے جاری ہوا ہے۔ اس طرح حفیظ الرحمن کی حکومت جس طرح ٹیکس مخالف دھرنے کو مسلکی رنگ دینے کی کوشش کرتے رہے بلکل اسی طرح گلگت بلتستان پیکج کے خلاف عوامی رد عمل کو اپنی انا کی خاطر علاقیت اور مسلکی رنگ دینے کیلئے سرکاری خرچے پر تیاریاں کی جارہی ہے۔
حکومت نے پیکج 2018 کے خلاف عوامی احتجاج کو مسلکی اور علاقائی رنگ دینے کیلئے پلان تیار کرلیا۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا