گلگت(ڈسٹرک رپورٹر) گلگت بلتستان پیکج 2018 کے خلاف ہفتہ کے روز گھڑی بازار گلگت میں متحدہ اپوزیشن کے زیر اہتمام زبردست عوامی اجتما ع کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر متحدہ اپوزیشن کے رہنماوں سمیت سماجی رہنماوں نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کپٹن شفیع خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ آرڈر 2018ء کے نام سے جو سفارشات تیار کی گئی ہیں ان میں قانون ساز اسمبلی اور وزیراعلیٰ کے اختیارات وزیراعظم کو منتقل کئے جارہے ہیں گلگت بلتستان کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کا اختیار وزیراعظم کو دیاجارہا ہے گلگت بلتستان میں ٹیکس نافذ کرنے کا اختیار وزیر اعظم کو دیا جارہا ہے وزیراعظم جسے بنانے میں ہمارا کوئی کردار نہیں ہے کوگلگت بلتستان کا بادشاہ بنادیا گیا ہے اگر اس آرڈر کو گلگت بلتستان میں نافذ کیاگیا تو ہم ایف سی آر اور مہاراجہ کے دور سے بھی پیچھے جائینگے اس لئے ہم اس آرڈر کو نافذہونے سے روکنے کیلئے حکومت کا تختہ الٹنے ،تحریک عدم اعتماد اور قانون ساز اسمبلی سے اجتماعی طور پر مستعفی ہونے سمیت ہر آپشن استعمال کرینگے اُن کا کہنا تھا کہ گورننس آرڈر 2009 کے تحت دو شیڈول تھے شیڈول تھری کے تحت گلگت بلتستان کونسل کے پاس 54سبجیکٹ پر قانون سازی کے اختیارات تھے جبکہ شیڈول فور کے تحت قانون ساز اسمبلی کے پاس 61سبجیکٹ پر قانون سازی کے اختیارات تھے اس کے برعکس گلگت بلتستان آرڈر 2018 کی سفارشات میں شیڈول تھری اور فور کو مکس کرکے کل 62سبجیکٹ بنائے ہیں اور ان 62سبجیکٹ پر قانون سازی کے مکمل اختیارات وزیراعظم کو منتقل کئے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ مجوزہ گلگت بلتستان آرڈر 2018 کی سفارشات کا مسودہ میرے پاس موجود ہے اس آرڈر کے آرٹیکل 61 کے تحت وزیراعلیٰ کے انتظامی اختیارات وزیراعظم کو منتقل کردئیے گئے ہیں۔ جبکہ آرٹیکل 64 کے تحت وفاقی حکومت جب چاہیے جہاں چاہیے گلگت بلتستان میں زمین حاصل کرسکتی ہے جبکہ وزیراعظم کو یہ اختیار بھی دیاگیا ہے کہ وہ گلگت بلتستان میں کسی بھی وقت ٹیکسوں کو نافذ کرسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مجوزہ سفارشات میں وزیراعظم کو گلگت بلتستان کا بادشاہ بنادیا گیا ہے ایک ایسے شخص کو گلگت بلتستان میں قانون سازی کے اختیارات دئیے گئے ہیں جسے آئین پاکستان میں بھی قانون سازی کے اختیارات حاصل نہیں ہیں ۔اُنکا مزید کہنا تھا کہ اس آرڈر کے تحت سٹیزن شپ ایکٹ 1951ء گلگت بلتستان میں بھی لاگو کردیا جائیگا جس کے بعد ملک کے کسی بھی صوبے کا شہری نہ صرف گلگت بلتستان کا شہری بنے گا بلکہ گلگت بلتستان میں الیکشن لڑنے کا بھی اہل ہوگا اور گلگت بلتستان کی خالی آسامیوں پر ٹیسٹ و انٹرویو دینے کیلئے بھی اہل ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ اس آرڈر کے تحت آڈیٹر جنرل اور فیڈرل پبلک سروس کمیشن جیسے آئینی اداروں کا دائرہ اختیار گلگت بلتستان تک بڑھا دیا جائے گا اور ان اداروں کا دائرہ کار گلگت بلتستان تک بڑھانے میں کسی بھی قسم کی کوئی آئینی رکاوٹ نہیں ہے۔ مگر جب ہم یہ کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کا دائرہ اختیار بھی گلگت بلتستان تک بڑھا دیاجائے تو کہاجاتا ہے کہ آئین پاکستان کا اطلاق گلگت بلتستان میں نہیں ہوسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مجوزہ گلگت بلتستان آرڈر کو نافذ ہونے سے روکنے کیلئے ہم اس صوبائی حکومت کا تختہ بھی الٹ دینگے دوسرا آپشن تحریک عدم اعتماد کا ہے اور تیسرا آپشن گلگت بلتستان کا درد رکھنے والے ممبران اسمبلی اجماعتی طور پر استعفیٰ پیش کرنے کا ہے۔ اور ہم اس آرڈر کو روکنے کیلئے ہر حد تک جائینگے ورنہ آنیوالی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیںکرینگی۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بالا ورستان نیشنل فرنٹ کے چیئرمین نواز خان ناجی نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو جب تک ہم مضبوط نہیں کرینگے تب تک گلگت بلتستان کا مسئلہ کبھی حل نہیں ہوگا 1947ء میں جب قیام پاکستان عمل میں آیا تو ریاست جموں کشمیر میںدو علاقوں سے تحریک شروع ہوئی ایک پلندری سے تحریک شروع ہوئی ایک گلگت سے تحریک شروع ہوئی دونوں تحریکیں الحاق پاکستان کیلئے تھیں پلندری کی تحریک نے چار ہزار مربع میل علاقے کو آزاد کرایا جبکہ گلگت کی تحریک نے اٹھائیس ہزار مربع میل علاقے کو آزاد کرایا ،چارہزار مربع میل علاقہ آزاد ہونے کے بعد سیاسی قیادت کی وجہ سے ریاست جموں کشمیر کے نام سے آزاد ریاست قائم ہوئی صدر بھی بنا وزیراعظم بھی بنا جھنڈا بھی ملا اور شناخت بھی ملی جب گلگت بلتستان میں سیاسی قیادت نہ ہونے کی وجہ سے صرف ڈنڈا ملا ،آزادکشمیر میںحولدار صدر بنا جبکہ یہاں کا صدر سی ایس او بنا انہوں نے کہا کہ جب تک ہم متحدہ نہ ہوں ہمیں کچھ بھی ملنے والا نہیں ہے انہوں نے کہاکہ میں شروع دن سے کہتا رہا ہوں کہ ہمیں صوبہ نہیں مل سکتا ہے ہمیں آزادکشمیرطرز کا سیٹ اپ بھی ملنے والا نہیں ہے ہمیں اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے تحت سلف رول کیلئے جدوجہد کرنی ہوگی دفاع ،کرنسی اور خارجہ امور وفاق کے پاس ہونگے جبکہ ہمیں مکمل داخلی خود مختاری کے حصول کیلئے کوشش کرنی ہوگی ۔ اس موقع پر رکن اسمبلی جاوید حسین نے کہا کہ گلگت بلتستان آرڈر 2018 کو اگر گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں پیش کئے بغیر ہمارے اوپر مسلط کیا گیا تو ہم گلگت بلتستان کی تمام سڑکوں کو جام کردیں گے انہوںنے کہا کہ ملک کے دیگر صوبوں میں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں جبکہ گلگت بلتستان کے عوام گزشتہ ستر سالوں سے پاکستان میں شامل ہونے اور پانچواں صوبہ بنانے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں جس کے جواب میں کہا جاتا ہے کہ یہ متنازعہ علاقہ ہے صوبہ نہیں بن سکتا ہے اگر یہ علاقے متنازعہ ہیںتو ہمیں کشمیر طرز کا سیٹ اپ دیاجائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی نے ان علاقوں کو پانچواں آئینی صوبہ بنانے کی قرار داد منظور کی تھی اس قرارداد کی روشنی میں سرتاج عزیز کمیٹی نے گلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبہ بنانے کی سفارش کی تھی لیکن وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے وزیراعطم آزادکشمیر سے ملکر گلگت بلتستان کے حقوق کا سودا کیا ہے۔ مگر ہم گلگت بلتستان کے حقوق کا ہر صورت میں تحفظ کرینگے انہوںنے کہا کہ وزیراعلیٰ حفظ الرحمن سے ہمارا کوئی ذاتی تنازعہ ہے نہ کوئی علاقائی تنازعہ ہے تنازعہ صرف یہ ہے کہ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کا سودا کرنا چاہتے ہیں ہم مخالفت میں کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ نے ٹھیکے فروخت کئے ہم نے برداشت کیا من پسند لوگوں کو نوکریوں سے نواز ہم نے برداشت کیا مگر گلگت بلتستان کا سودا کبھی بھی برداشت نہیں کرینگے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں جب کبھی بھی اصلاحات ہوئی ہیں پی پی کے دور میں ہوئی ہیں مسلم لیگ ن تین دفعہ وفاق میں برسراقتدار آئی ہے مگر تینوں مرتبہ گلگت بلتستان میں کچھ بھی اصلاحات نہیں کی ہیں انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ گورننس کی بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں لیکن عملاً ترقیاتی فنڈز نصف درجن معاونین خصوصی اور مشیروں کی تنخواہوں کی مد میں خرچ ہورہا ہے ایک معاون خصوصی کی تنخواہ ماہانہ ساڑھے چار لاکھ روپے ہے انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے اپنے بھائی کو تو مستقل کردیا مگر غریب کنٹریکٹ ملازمین دھرنے میں بیٹھے ہوئے ہیں مگر کوئی پوچھنے والا نہیں ہے عوامی ایکشن کمیٹی کے چیئرمین مولانا سلطان رئیس نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یکم نومبر 1948 کو ہمارے آبا و اجداد نے بغیر کسی شرط کے گلگت بلتستان کا پاکستان سے الحاق کرکے بتادیا تھا کہ ہم کیا چاہتے ہیں ہمارے بزرگوں اور شہدا کی قبروں پر لہرانے والا پاکستان کا جھنڈا بتارہا ہے کہ ہم کیا چاہتے ہیں اس کے باوجود ہم سے پوچھا جارہا ہے کہ تم کیا چاہتے ہو ہم یہ سوال حکمرانوں سے کرتے ہیں کہ تم کیا چاہتے ہو ہم نے اسلامی جذبے کے تحت کلمہ کی بنیاد پرپاکستان سے الحاق کیا تھا ہم جب پانچواں آئینی صوبہ بنانے کا مطالبہ کرتے ہیں توکہاجاتا ہے کہ پانچواں صوبہ بنانے میں ریاست کو مشکلات ہیںہم کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے صوبہ بنانے میں ریاست کو مشکلات ہیں تو ہمیں کشمیر طرز کا سیٹ اپ دیدو تو کہا جاتا ہے کہ کشمیر طرز کا سیٹ اپ دینے میں ریاستی اداروں کو مشکلات ہیں انہوں نے کہا کہ اگر صوبہ بنانے اور کشمیر طرز کاسیٹ اپ دینے میں مشکلات ہیں تو حکمران ہمیں بتائیں کہ آخر ہم کیا مانگیں انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان میں شامل ہونے اور پاکستان کا شہری بننے کیلئے ستر سال برداشت کیا انہوں نے کہا کہ ہم نے گورننس آرڈر2009 کو بھی مسترد کیا تھا اور اب گلگت بلتستان آرڈر2018 کو بھی مسترد کرتے ہیں ہمیں کوئی سیٹ اپ اورپیکیج کی کوئی ضرورت نہیں ہے اب ہم داخلی خودمختاری کا مطالبہ کرتے ہیں دفاع اور خارجہ پالیسی کے سوا تمام اختیارات ہمیں دئیے جائیں
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا