کھرمنگ( نامہ نگار خصوصی) ضلعی ہیڈکوارٹر کھرمنگ کیلئے سرکاری کی طرف سے گوہری سے ملحق میدان کی ملکیتی تنازعے کے حوالے سے عوامی مطالبے کے بعد بڑی پیش رفت سمانے آئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق کھرمنگ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بغیر کسی معاوضے عوامی املاک پر قبضے کرنے کوشش کوشش کو اہلیان گوہری نے مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔ دوسری طرف اہلیان غاسنگ منٹھوکھا اور مادھوپور کے عوام نے ڈسٹرک ہیڈکو ارٹر کی تاخیر پرشاہرا کھرمنگ کو بند کر پرزور احتجاج کیا اسی طرح اہلیان مہدی آباد نے بھی اس سلسلے میں مہدی آباد بازار پر ضلعی ہیڈکوارٹر کا سنگ بنیاد رکھنے میں تاخیر ہونے پر شدید احتجاج کیا۔ سادات گوہری کی جانب سے سرکاری مداخلت کے خلاف احتجاج کی تصویریں سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی بلتستان ریجن میں عوام متحرک ہوگئے۔ کھرمنگ بالائی علاقہ جات کے عوام نے اہلیان گوہری کے ساتھ اظہار ہمدردی کیلئے گوہری کی طرف مارچ کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ بلتستان ایکشن کمیٹی اور سول سوسائٹی بلتستان کے نمائندے گوہری کی جانب روانہ ہوگئے لیکن اُنہیں مہدی آباد پولیس چیک پوسٹ پر یہ کہہ کر روکا گیا کہ کمشنر بلتستان کے خصوصی حکم پر سادات کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں ارو اُن کے جائز مطالبات قبول کیا جائے گا۔ دن بھر جاری احتجاج کے بعد بلاآخر اہلیان گوہری نے حکومت کے سامنے دس نکاتی ایجنڈا پیش کیا جس پر حکومت نے نرم دلی کا اظہار کرتے ہوئے عمل درآمد کی یقین دہائی کرایا ہے۔ اس حوالے فیصلہ یہ ہوا ہے کہ اہلیان گوہری 20 کنال بعوض معاوضہ ضلعی ہیڈکوارٹر کیلئے دیا جائے گا اور اہلیان گوہری کے حقوق کی پاسداری کی جائے کی۔



More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا