اسلام آباد(نامہ نگار خصوصی)قومی اسمبلی میں مسلم لیگ کی حکومت نے اپنے اقتدار کا آخری بجٹ پیش کردیا۔ وفاقی کی جانب سے پیش کردوہ وفاقی بجٹ 2018 میںگلگت بلتستان کیلئے21 ارب 32 کروڑ90 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق آئندہ مالی سال 2018ـ19 کے دوران سالانہ ترقیاتی پروگرام(اے ڈی پی) میں شامل تمام منصوبوں کیلئے بلاک ایلوکیشن کی مد میں17ارب روپے جبکہ وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام(پی ایس ڈی پی) میں شامل کل 17 ترقیاتی منصوبوں کیلئے4 ارب 32 کروڑ 90روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے جن میں 8 جاری ترقیاتی منصوبوں کیلئے2ارب 53کروڑ 40 لاکھ جبکہ9 نئے منصوبوں کیلئے1ارب 78کروڑ 50لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔اسی طرح 8جاری منصوبوں میں سے شغرتھنگ کے مقام پر 26 میگا واٹ ہائیڈرو پاور پراجکٹ کیلئے20 کروڑ روپے،تھگ چلاس کے مقام پر4میگاواٹ ہائیڈرو پاور پراجکٹ کیلئے 10کروڑ روپے،گلگت میں امراض قلب ہسپتال کیلئے 20 کروڑ روپے، نلتر کے مقام پر16 میگا واٹ ہائیڈور پاورپراجکٹ کیلئے75 کروڑ روپے، ہنزل گلگت کے مقام پر20 میگا واٹ ہائیڈورپاور پراجکٹ کیلئے58کروڑ20 روپے، ہرپو کے مقام پر 34.5 میگا واٹ ہائیڈور پاور پراجکٹ کیلئے30 کروڑ 20لاکھ روپے، سکردو میں پولی ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ فار بوائز کے قیام کیلئے 10کروڑ روپے، کنو داس سے نلتر ایئرفورس بیس تک سڑک کی اپگریڈیشن کیلئے 30 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔آئندہ مالی سال کے دوران جن 9نئے منصوبوں کیلئے فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی ہیں ان میں حسن آباد ہنزہ کے مقام پر5 میگا واٹ ہائیڈرو پاور پراجکٹ کیلئے 10کروڑ روپے،عطاآباد جھیل پر سیاحوں کیلئے سیر گاہ بنانے کے منصوبہ کیلئے10کروڑ روپے،گلگت بلتستان میں ریجنل گرڈ سٹیشن کی تعمیر کیلئے 30کروڑ روپے،گلگت میں میڈیکل کالج کے قیام کے منصوبہ کیلئے 9کروڑ50 لاکھ روپے، عطاآباد کے مقام پر32.5 میگاواٹ ہائیڈرو پاور پراجکٹ کیلئے15 کروڑ روپے،گلگت شہر کیلئے سینیٹری سیورج منصوبہ کیلئے40کروڑ روپے، گلگت کارگاہ روڈ کی مرمت کیلئے20کروڑ روپے،غواڑی گانگچھے کے مقام پر 30 میگا واٹ ہائیڈرو پاور پراجکٹ کیلئے5کروڑ روپے جبکہ چلاس سے ناران تک 65 کلو میٹر سڑک کی توسیع اور میٹلنگ کیلئے5کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا