آئینی حقوق کے معاملے میں سب کچھ اُلٹا ہوگیا،گلگت بلتستان میں جمہوریت نہیں مارشل لاء نافذ ہیں۔ اپوزیشن لیڈر۔

0 0

اسلام آباد(لوکل میڈیا پورٹ) گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور رہنما اسلامی تحریک کیپٹن(ر) محمد شفیع نے مقامی اخبارات کے رپورٹر ز سے خصوصی بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں جمہوریت نہیں بلکہ یہاں غیراعلانیہ مارشل لاء نافذ ہیں ہے۔ اُنکا کہنا تھا کہ کسی بھی اہم معاملے میں کابینہ سے مشاورت نہیں ہوتیبلکہ ون مین شو حفیظ الرحمن جمہوریت کے نام پر بادشاہت کی کرسی پر سوار ہیںہیں ،ٹھیکوں ،منصوبوں اور اعلیٰ عہدوں پر تقرریوں میں فرد واحد کا حکم چلتا ہے کوئی میرٹ نہیں لیکن اداروں کی خاموشی سوالیہ نشان بن گئی ہے۔اُنکا مزید کہنا تھا کہ ہم نے کرپشن کے بہت سارے ثبوت اسمبلی میں بھی پیش کیے لیکن نیب ،ایف آئی اے اور دیگر تحقیقاتی ادارے خاموش ہیں۔چیف الیکشن کمشنر کی تقرری حکومت اور اپوزیشن نے مل کرکرنا ہوتی ہے لیکن یہاں پر بھی بادشاہت کے ذریعے اپنے من پسند شخص کو تعینات کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔۔ آئینی پیکج 2018 کے حوالے سے اُنکا کہنا تھا کہ پیکج اور اصلاحات کے نام پر ایک اور ڈرامہ کیا جا رہا ہے، پیپلزپارٹی سے منسوب گورننس آرڈر کو نام تبدیل کر کے ن لیگ اپنے کھاتے میں ڈالنا چاہتی ہے ، یہ ایک ڈرامہ ہے کوئی تبدیلی یا عوام کو نئی چیز نہیں ملے گی ، مبصر کے طور پر نمائندگی عوام کے ساتھ مذاق ہے، ہم کب تک خیرات پر پلتے رہیں گے ، یہ نام نہاد اصلاحات عوام کی محرومیوں میں اضافے کا باعث بنے گا۔ یہ ٹوپی ڈرامہ ہم یکسر مسترد کرتے ہیں، ن لیگ عوام سے مخلص ہے تو آئینی اداروں میں مستقل نمائندگی کیوں نہیں دیتے، سپریم کورٹ آف پاکستان تک رسائی کیوں نہیں دی جاتی، انہوں نے کہا کہ یہ ہماری بڑی بدقسمتی ہے کہ وزیراعلیٰ حکومت ہم پرکرتے ہیں لیکن نمائندگی اور مفادات کا تحفظ کسی اور کے کر رہے ہیں، سرتاج عزیز کمیٹی میں ہمیں بھی بلایا گیا تھا اور یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ گلگت بلتستان کو پارلیمنٹ میں باقاعدہ نمائندگی ملے گی لیکن بعد میں سب کچھ الٹ گیا وزیراعلیٰ کے ناک تلے گلگت بلتستان کیلئے ایک ڈمی سیٹ اپ کی سفارشات تیار کی گئیںلیکن وزیراعلیٰ عوام کی نمائندگی کی بجائے کشمیریوں کے مفادات کا تحفظ کرتے رہے۔ ہم عوام میں جائیں گے اور اس ڈرامے کے خلاف لائحہ عمل تیار کریں گے ، ہمارا مطالبہ ہے کہ اگر آئینی حقوق ممکن نہیں ہیں تو پھر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق متنازعہ حیثیت کو واضح کر کے اسی کے مطابق پیکج دیا جائے ، یہ آدھا تیتر اور آدھا بٹیر والا معاملہ عوام کے مفاد میں نہیں ہے ۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website