سی پیک کے گیٹ وے پر موجود سوست ڈرائی پورٹ کی این ایل سی کو حوالگی ایک معمہ بن گئی۔

0 0

ہنزہ (نمائندہ خصوصی) پاکستان چائنہ اکنامک کوریڈور کے دروازے میں موجود سوست ڈرائی پورٹ کی حالیہ دنوں میں نیشنل لوجسٹیکس سیل کو حوالگی ایک معمہ بن گئی ہے، بتایا جا رہا ہے کہ سوست ڈرائی پورٹ جو کہ 342 مقامی لوگوں کی ملکیت ہے اور اس وقت این ایل سی کے ہاتھ میں ہے۔ جو کہ پہلے چائنیز کے ساتھ ایک معاہدے میں دیا کیا تھا جس میں انہوں نے سوست ڈرائی پورٹ کی تعمیر کرنی تھی اور عنقریب 15 سال اس سے چائنیز نے 60 فیصد فائدہ اٹھانا تھا اور 40 فیصد عوام کو دینا تھا۔ 15 سال کی مدت میں عوام کو چائینز کی طرف سے ایک پیسہ بھی نہیں ملا۔ اس دوران میر غضنفر علی خاں گورنر گلگت بلتستان کے صاحب زادے نے بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ ڈال کر پانچ کروڑ روپے نیشنل بینک سے نکالے اور جو بعد میں سوست ڈرائی پورٹ کے اکاؤنٹ سے معاف کروائے۔حال ہی میں ایک اور معاہدہ سوشل میڈیا پر آیا ہے، جو کہ ظفر اقبال چیرمین سوست ڈرائی پورٹ، اس کی کابینہ(جن کی مدت پوری ہوئی تھی اور الیکشن کرانے کے بجائے ظفر اقبال عدالت گئے ہوئے ہیں) اور این ایل سی کے مابین ہوا ہے جس میں مقامی مالکان کو جو اس وقت 100 فیصد زمین اور بلڈنگ کے مالک ہیں کو 20 فیصد ملے گا اور جن کے ساتھ معاہدہ ہوا ہے (این ایل سی) کو 80 فیصد ملے گا۔سوست ڈرائی پورٹ کے 342 میں سے 320 کے قریب مالکان نے اس معاہدے سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے اور شدید تحفظات، غصے اور غم کا اظہار کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے مالکان ہم نہیں این ایل سی ہے۔ مالکان نے اس معاہدے کو مسترد کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ ہمارے ساتھ دھوکہ کیا گیا ہے۔سوست ڈرائی پورٹ کے مالکان اور ہنزہ کے عوام نے اس معاہدے کو مسترد کیا ہے اور پاکستان چائینہ کی دوستی کے ساتھ ساتھ سی پیک مخالف اقدام قرار دیا ہے۔ یاد رہے کہ ظفر اقبال اور اس کی کابینہ نے سوست ڈرائی پورٹ میں اپنے لئے نوکریاں بھی لی ہیں اور عوام اور ابھی تک ایک پیسہ بھی نہیں ملا ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website