سکردو(نامہ نگار) سرفرانگاہ کار ریلی کو دیکھنے کیلئے انے والے شائقین کو تین کلومیٹر دور روک کر پیدل جانے پر مجبور کرکے شائقین کو ذہنی اذیت میں مبتلا کردیا جبکہ بچوں کو لیکر انے والے شائقین راستے ہی سے واپس چلا گیا جبکہ سرکاری افسران اور وی ائی پی کلچرل کو فروغ دیتے ہوئے ان کو گاڑیوں سیمت جانے کی اجازت دیا۔ جبکہ سکردو شہر سے کئی خواتین نے اپنی کاریں لیکر ریلی دیکھنے کیلئے آئی تھی انہیں بھی تین کلومیٹر دور روکا گیا تو مایوس واپس جانا پڑا۔ خواتین نے میڈیا کو بتایا ہمیں اپنے بچوں کو لیکر سکردو شہر سے تمنا کرکے جب سرفرانگاہ کار ریس دیکھنے آئی تو پولیس اور سکردو کے انتظامی اہلکاروں نے ہمیں تین کلومیٹر دور روکا گیا اور ہمیں بتایا کہ گاڑی یہاں روک کر یہاں سے پیدل جاو جبکہ ہم نے اصرار بھی کیا ہمیں اپنی گاڑی کے ساتھ جانے دو ہم تین کلو میٹر پیدل جا نہیں سکتی۔ ہم آپ کے ماں بہن ہے ہم نے فریاد بھی کیا اس کے باوجود ہماری ایک بھی نہ سنی اور ہمیں جانے نہیں دیاجبکہ سرفرانگاہ کے میدان پر کار پارکنگ کیلئے سنکٹروں کنال اراضی بھی تھا اس کے تمائشیوں کی دور رکھنے کی پالیسی بنا کر ناکام بنانے کی سازش کیا گیا تھا۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا