بیجنگ(آئی این پی) بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کی دنیا بھر میں تیزی سی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے پیش نظر چین نے اس کے راستے میں آنے والے تنازعات کو نمٹانے کیلئے غور کرنا شروع کردیا ہے تاکہ یہ منصوبہ امن کے ساتھ آگے بڑھتا رہے ۔ اور متعلقہ فریقین کی تواقعات پر پورا اتر سکیں۔ اس سلسلے میں تنازعات حل کرنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک یہ ہے کہ قانونی میکنزم کے ذریعے تنازعات کو حل کیا جائے۔ جس میں قانونی اور عدالتی طریقہ کار شامل ہے۔ جبکہ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ان تنازعات کو ثالثی اور مصالحت کے ذریعے حل کیا جائے۔یہ بات چین کے معروف اخبار گلوبل ٹائمز نے چینی ماہرین کے حوالے سے بتائی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ قانونی نظام میں بین الاقوامی قانونی نظام بھی شامل ہے۔ جس میں اینگلو امریکی قانونی نظام اور اسلامی قانونی نظام خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ مزید براں یہ کے زیادہ تر معاشی تنازعات ترقی پذیر ممالک میں ہیں۔ جہاں مقامی قانونی نظام لاگو ہوتا ہے۔ اردن میں تجارتی جھگڑے عام طور پر عدالتوں کے ذریعے حل کرنے میں تین سے چار سال کا عرصہ لگتا ہے۔ جہاں تک ثالثی اور مصالت کا تعلق ہے یہ تنازعات کو نمٹانے میں اہم ا ور موثر کردار ادا کرتے ہیں لیکن بیلٹ اینڈ روڈ تنازعات میں یہ طریقہ اپنانے میں بڑے مسائل ہیں۔ کیونکہ یہ مہنگا بھی ہے اور عالمی ثالثی اداروں میں اس پر وقت بھی بہت زیادہ صرف ہوتا ہے۔سرمایہ کاری کے تنازعات نمٹانے کے لیے انٹرنیشنل سنٹر ایک بہت اہم ادارہ ہے۔ لیکن اس میں عام طور پر ایک مقدمے کی ثالثی فیس اوسطاً پانچ لاک ڈالر ہے۔ جو کہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے سے وابستہ کم آمدنی والے ممالک سے ادا کرنا مشکل ہے۔چین میں تنازعات نمٹانے کے لیے ادارے پہلے سے موجود ہیں۔ 2008 کے مالیاتی بحران کے بعد سے ترقی پذیر ممالک بین الاقوامی معیشت کی بہتر ی کیلئے بہت اہم ہوگئے ہیں۔ اور چین نے عالمی معیشت کی ترقی کے لیے عظیم کردار ادا کیا ہے۔بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے محرک کے طورپر یہ چین کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان تنازعات کے حل کے لیے مدد کرے جو عالمی گورنس کے لیے اپنا کردار ادا کرے ۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا