شگر(عابدشگری)شگر کو ضلع بنے تین سال کا عرصہ بیت گئے تاہم محکمہ ڈاک کی حالات بہتر نہ ہوسکیں اور نہ ہی سٹاف بڑھ سکا۔700سے زائد پنشنر،5500سے زائد اکاؤنٹ ہولڈر،1200سے زائد بلنگ صارفین صرف 2ہی سٹاف کی رحم وکرم پر ہے۔پوسٹ ماسٹر کی تبادلے کے بعد پوسٹ میں کو اضافی چارج دیکر پوسٹ مین کی پوسٹ کو ختم کردیا گیا۔جس کی وجہ سے ڈاک کی بھروقت ترسیل سوالیہ نشان بن گیا۔ تفصیلات کے مطابق ضلع شگر کو باقاعدہ فنکشنل ہوئے تین سال سے زائد کا عرصہ بیت چکا۔ جہاں تمام محکموں نے اپنے ضلعی سیٹ اپ شگر میں قائم کردیا ہے لیکن محکمہ ڈاک کی صورتحال بہتر نہ ہوسکا۔شگر میں قائم پوسٹ آفس اپ گریڈ ہونے کے بجائے تنزلی کی جانب گامزن ہے۔اس وقت پوسٹ آفس شگر صرف دو سٹاف کی رحم وکرم پر ہے۔ جبکہ سہولیات نامی کوئی شے موجود نہیں۔ پوسٹ آفس میں ہ ہیٹنگ کا نظام ہے اور نہ کوئی اور سہولیات ۔جبکہ اس وقت اس ڈاکخانہ سے زائد پنشنر،5500سے زائد اکاؤنٹ ہولڈر،1200سے زائد بلنگ صارفین منسلک ہے۔ذرائع کے مطابق محکمہ پوسٹ کے اعلیٰ حکام کی جانب سے شگر میں موجود پوسٹ آفس کو اپ گریڈ کیلئے یقین دہانی تو کرایا گیا تھا تاہم اس پر عملدرآمد ابھی تک نہ ہوسکا۔ذرائع کے مطابق گلگت بلتستان محکمہ پوسٹ میں موجود بعض لابی شگر میں ڈاک کی بہتر سہولیات فراہم کرنے رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔جو نہیں چاہتے کہ شگر میں محکمہ پوسٹ کی حالت زار بہتر ہو۔شگر کے مختلف عوامی حلقوں کی جانب سے شگر میں محکمہ پوسٹ کی اپ گریڈیشن کا مطالبہ کیا ہے۔
ضلع شگر کے عوام محکمہ ڈاک پریشان۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا