سکردو( پ،ر) بلتستان میں سردی کی شدت میں اچانک اضافہ ہوگیا ہے سخت سردی کے باعث مختلف دریا جم کر پل بن گئے لوگوں نے برف کے اوپر سے ٹریکٹر گزارنا شروع کیا ہے۔ سکردو میں کم سے درجہ حرارت منفی 18جیکہ بالائی علاقوں میں کم از کم منفی 22تک گر گیا۔ سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے عوام گھروں میں محصور ہو کر رہے گئے۔شہری علاقوں میں بجلی غائب جبکہ ایندھن کیلئے استعمال ہونے والے لکڑی کی قیمت آسمانوں کو چھو گئے لیکن پرائس کنٹرول اٹھارٹی کا کہیں وجود بھی نظر نہیں آتا۔یاد رہے کئی درجن برف پوش برفانی گلیشرز اور کے ٹو سیاچن کی سرزمین بلتستان دنیا کا دوسرا سرد ترین مقام ہے جہاں پر 1994/95میں شدید سردی ریکارڈ کی گئی تھی۔ لیکن عدم سہولیات کی وجہ سے عجیب قسم کی بیماریاں اور ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی عدم موجودگی نے پرایئوٹ کلنکس قصائی بن گئے ہیں۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا