شگر(عابدشگری)ایکسویں صدی میں بھی باشہ کے عوام پتھر کی دور میں۔ بیماروں کو کندوں پر لاد کر علاج کیلئے کئی کئی دن پیدل چلنے پر مجبور۔تفصیلات کے مطابق گذشتہ دنوں ارندو میں ایک خاتوں شدیدبیماری کے باعث مقامی معالج کے بس سے باہر ہوگیا انہیں فوری علاج کیلئے سکردو ریفر کیا گیا تھا لیکن شدید برف باری کے باعث راستے بلاک ہونے کی وجہ سے انہیں مقامی لوگوں نے دو دن اور کئی گھنٹے پیدل چل کر تسر لایا جہاں سے سکردو ڈی ایچ کیو منقل کردیا گیا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے ارندو سمیت باشہ یونین میں کئی کئی فٹ برف پڑچکی ہے جس کے بعد راستوں کو صاف کرنے کیلئے کسی قسم کی مشینری نہ ہونے کی باعث راستے بند ہے۔سخت بیماری کی صورت میں یہاں کے لوگوں کی بہتر علاج موت کے سوا کچھ نہیں۔انہوں نے شگر انتظامیہ اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ باشہ یونین میں سڑکوں کی صفائی کیلئے مناسب مشینری مہیا کیا جائے تاکہ ایمرجنسی میں سڑکوں سے برف ہٹایا جاسکیں۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا