سکردو(نامہ نگار )گلگت بلتستان کو ٹیلی کام اتھارٹی نے اور حکومت پاکستان نے دور جدید کی اہم سہولیات تھری جی فور جی کی اہم سہولیات سے محروم رکھا ہوا اور ایس سی او نے تجرباتی بنیادوں پر گلگت بلتستان کو تھری جی فور جی کی سہولیات فراہم کیا گیا تھا اور چند دونوں میں ایس سی نے پورے گلگت بلتستان میں فور جی سیم فروخت کرکے کروڑوں روپے کمائے اور راتوں رات بند کر دیا جبکہ آذاد کشمیر میں ایس سی او نے تھری جی اور فور جی کی سروس فری میں چلا رہا ہے اور آذاد کشمیر کا تھری جی فور جی سیریل والے نمبر پر گلگت بلتستان میں بھی تھری جی فور جی سروس چل رہا ہے جس سے فائدہ اٹھا کر ایس سی فرنچائز نے بلیک مارکیٹنگ کے ذریعے کشمیر کے سیریل والے نمبر تین ہزار سے پانچ ہزار میں فروخت کیا جارہا ہے ایس سی او کے حکام بھی اپنے فرنچائز کے ساتھ مل کر بلیک مارکیٹنگ میں ملوث ہے گلگت بلتستان کے عوامی حلقوں میں حکومت پاکستان کے خلاف سخت غم و غصہ پایا جارہا ہے ستر سالوں سے گلگت بلتستان کے عوام کو نظر انداز کیا جارہا ہے گلگت بلتستان کے ساتھ سوتیلی ماوں جیسا سلوک کیا جارہا تھری جی فور جی کی سروس ہی سے دیکھا جاسکتا ہے آذاد کشمیر میں زونگ ٹیلی نار یو فون اور دیگر موبائل کمپنیوں کو تھری جی فور جی کی سروس چلانے کی اجازت دیکر سروس باقاعدہ سے چلا رہا ہے اور گلگت بلتستان بھی آذاد کشمیر کی طرح متنازعہ علاقہ ہونے کے باوجود ایک طرف آذاد کشمیر میں تھری جی فور جی کی سروس چلانے کی اجازت دینا اور دوسری طرف گلگت بلتستان کے عوام کو تھری جی فور جی کی سروس چلانے کی اجازت اب تک نہیں دینا سراسر زیادتی پر مبنی ہے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا