سکردو(نامہ نگار) سکردو میں واقع مشہ بروم ہوٹل کے بارے کہا جاتا ہے کہ یہ بلتستان کی واحدہوٹل ہے جہاں سیاح کیلئے بنیادی سہولیات موجود ہیں لیکن اس ہوٹل کے انتظامیہ کی جانب سے سیاحوں کو لوٹا جارہا ہے مگر کوئی پرسان حال نہیں۔ ہماری ٹیم نے اس حوالے سے وہاں مقیم کئی سیاح سے بات کہ تو ایک سیاح آپریٹر جو کراچی سے آیا ہوا تھا انہوں نے انتظامیہ کی روئے کے خلاف شکایت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اس ہوٹل میں ایک درجن سے ذیادہ کمرے بک کیا تھا لیکن تمام تر معاملات طے ہونے کے بعد اچانک ہوٹل منیجر نے فی کمرہ پانچ سو روپیہ کے حساب سے بڑھایا اور جب ہم بکنگ کنسل کرنے کی بات کی تو یہ کہہ کر دھمکی دیا کہ آپ لوگ یہاں سے باہر بھی نکلا تو ذمہ دار آپ خود ہوں گے۔ اسی طرح ایک اور سیاح آپریٹر نے بھی یہی شکایت کیا کہ ہم نے اس ہوٹل میں قیام کے دوران دیوسائی وزٹ کیلئے باہر سے گاڑی بک کیا جو کہ ہمیں سستا پڑھ رہا تھا۔ لیکن جب ہوٹل انتظامیہ کو علم ہوا تو اُنہوں نے سیاسی اثر رسوخ کا دھمکی دیکر مشہ بروم ہوٹل سے ایک ہزار روپیہ مارکیٹ سے ذیادہ ریٹ پر بکنگ کیلئے مجبور کیا اور واپسی پر یہ کہہ کر مزید پیسوں کا تقاضا کیا کہ آپ کے ساتھ دیوسائی کا وعدہ تھا اور آپ لوگ اُس سے بھی آگے پانی تک گیا ہے۔ ایک اور سیاح کے مطابق ہوٹل سے نکلتے وقت متفق ریٹ سے بہت ذیادہ بل کیا معلوم کرنے پر وجہ بتائے بغیردھمکی کے ذریعے پیسہ وصول کرنے کی کوشش کی ۔ ہماری ٹیم نے قریب کھڑی مقامی ٹیکسی ڈرائیور سے بھی کچھ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تو بتایا گیا کہ یہاں جو بھی سیاح آتے ہیں وہ رو کر نکلتا ہے لیکن سکردو میں عدم سہولیات کے سبب سیاح اس ہوٹل میں قیام پر مجبور ہیں۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا