سکردو(ٹی این این کرائم رپورٹر) سکردو عوامی چراگاہیں مال مفت دل بے رحم کے مصداق بندر بانٹ میں تحریر آن لائن تحقیقاتی ٹیم کے سامنے لوگ پھٹ پڑے کچھ جوانوں نے اس عمل کے خلاف کھل کر اپنے خزبات کا اظہار کیا گھاس چرائی کے حقوق سے محروم رکھنے میں نام نہاد کمیٹی عوام میں گمراہ کن افواہیں پھیلا کر کمزور لوگوں کو دبا کر رکھتے ہیں انہی میں سے چند اشخاص نے کئی بااثر لوگوں کو عوامی چرگاہ کو بیھچ دیا ہے جوکہ متعلقہ گاؤں کے بے سہارا اور یتیموں بیواؤں کی حقوق پر ڈاکہ ہے زاتی مفادات کے حصول کیلئے کچھ سرکاری لوگ پیش پیش ہیں مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ سرکاری تنخواہیں اور مراعات لینے کے باوجود علاقہ کا چوہدری بنے ہوئے ہیں جنہوں نے مختلف مواقوں پر عوامی ایکشن کمیٹی اور سول سوسائیٹی کو ٹشو پیپر کے طور پر بھر پور استعمال کیا گیا اب صورتحال یہ ہے کہ گاؤں میں موجود بے سہارا یتیم اور بیواؤں ان کا حق دینے کی بجائے مزہبی اداروں کو اپنی تحفظ کیلئے ایسے بانٹے جا رہے ہیں جیساکہ ان کی زاتی ملکیت ہے ایک طرف عدالت عالیہ میں اقرا نامہ جمع کراتے ہیں کہ عوامی چراگاہیں سابق صورت جدید برقرار رکھیں گے تو دوسری جانب اس کی بندربانٹ کرکے سلفی بنا کر فاتحانہ انداز میں اپ لوڈ کرنا سمجھ سے بالاتر ہے ریونیو کمشنر بلتستان ڈویژن کو اس سلسلے میں فوری طور پر نوٹس لے کر اس بابت تحقیقات کرکے ملوث افراد کے خلاف فوری طور قانونی کارروائی کرنا چائیے تاکہ عوامی چراگاہیں مال مفت دل بے کے مصداق بندر بانٹ سے روکا جاسکے .
سکردو عوامی چراگاہ کی بندر بانٹ کچھ جوانوں نے اس عمل کے خلاف کھل کر اپنے خزبات کا اظہار کرتے ہوئے کمشنر بلتستان سے بڑا مطالبہ کردیا
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا